انڈیا میں زہریلی شراب پینے سے 86 ہلاک
انڈیا کی ریاست پنجاب میں زہریلی شراب پینے سے مرنے والوں کی تعداد 86 ہوگئی ہے۔ وزیر اعلی امریندر سنگھ نے واقعہ کی خصوصی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق انڈیا میں حکام کا کہنا ہے کہ یہ ہلاکتیں گزشتہ تین دنوں میں ہوئیں۔
انڈین ٹی وی چینلز کی رپورٹس کے مطابق شمالی ریاست کے تین اضلاع میں یہ ہلا کتیں ہوئی ہیں۔ پولیس نے شراب کی ترسیل سے منسلک 25 افراد کو حراست میں لیا ہے۔
ریاستی حکومت نے ہلاکتوں کے بعد 13 افسران کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے محکمہ ایکسائز کے سات اور پولیس کے چھ اہلکاروں کو معطل کیا۔
انڈین ذرائع ابلاغ کے مطابق گورداسپور ضلعے میں گیارہ افراد ہلاک ہوئے۔پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق امرتسر میں 12 اور ترن ترن ضلعے میں 63 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
پنجاب کے وزیراعلی امریندر سنگھ نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہلاکتوں کی خصوصی تحقیقات کا حکم دیا ہے جو بھی قصور وار پایا گیا اسے چھوڑا نہیں جائے گا‘۔
خیال رہے کہ انڈیا میں ہرسال ہزاروں افراد زہریلی شراب پنیے سے ہلاک ہوتے ہیں۔ دیسی طریقے سے بنائی گئی شراب دس روپے فی لٹر تک فروخت کی جاتی ہے۔
قبل ازیں انڈیا کی ریات آندھر پردیش میں شراب نہ ملنے پر مبینہ طور پر سینیٹائزر پینے سے دس افراد ہلاک ہوئے تھے۔

