پاکستان24

ایف بی آر بے رحم عناصر کے دباؤ میں ہے: اہلیہ جسٹس فائز

اگست 29, 2020

ایف بی آر بے رحم عناصر کے دباؤ میں ہے: اہلیہ جسٹس فائز

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینہ عیسیٰ نے ایف بی آر میں غیر ملکی جائیدادوں کی خریداری کی مکمل تفصیلات جمع کرائی ہیں۔ 21 صفحات پر مشتمل تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ الطاف حسین کے عظیم مداح فروغ نسیم اور شہزاد اکبر جیسے سیاسی جماعتوں کے اجرتی نوکر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو عہدے سے ہٹانا چاہتے ہیں، اسلام آباد شہر میں دن دھاڑے کسی کو بھی جانے پہچانے صحافیوں کی طرح اٹھایا اور تشدد کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔

رپورٹ: جہانزیب عباسی

سرینہ عیسیٰ نے ایف بی آر میں جمع کرائے گئے جواب میں کراچی میں بطور استاد پڑھانے کے آغاز سے لے کر کاروبار کرنے اور زرعی زمین، وراثت میں ملی جائیداد سمیت مکمل تفصیل فراہم کردی ہے۔

جواب میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست پر ابھی تفصیلی فیصلہ جاری نہیں کیا، ایف بی آر سے کہا گیا کہ تفصیلی فیصلے کا انتظار کریں لیکن ایسا نہیں کیا گیا،مختصر حکمنامے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جو ابھی سماعت کیلئے مقرر نہیں ہوا، ایف بی آر کو نظر ثانی درخواست پر فیصلہ آنے تک انتظار کرنا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ میرا ریجنل ٹیکس آفیسر کراچی میں تھا لیکن خلاف قانون ٹیکس کارروائی کا آغاز اسلام آباد میں کیا گیا، اعتراض مسترد کرنے کی وجوہات نہیں بتائی گئیں،ایف بی آر نے یہ جواب بھی نہیں دیا ہے کہ میری اجازت کے بغیر ریجنل ٹیکس آفیسر کو کراچی سے اسلام آباد کیوں تبدیل کیا گیا،ریجنل ٹیکس آفیسر دوبارہ کراچی منتقل کرنے کا کہا گیا لیکن میرے مطالبے کو نظر انداز کیا گیا،میری بیٹی بچوں کے ہمراہ الگ رہتی ہے،میرا بیٹا لندن میں رہتا ہے،میں بیلف یا مجاز نہیں ہوں ایف بی آر خود رابطہ کرے۔

ایف بی آر میں جمع کرائے گئے جواب کے مطابق ایف بی آر نے مجھے پرانے ٹیکس گوشواروں کی تفصیل طلب کرنے کے باوجود فراہم نہیں کی، ایف بی آر بے رحم عناصر کے دباؤ میں آکر ایسا کر رہا ہے تاکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو سپریم کورٹ کے جج کے منصب سے ہٹایا جائے،بیرون ملک جائیدادوں کو آف شور اثاثے کہنا غلط ہے کیوں کہ آف شور کمپنیوں کے زریعے جائیدادیں نہیں بنائی گئیں،عمران خان نے تسلیم کیا کہ اُس نے لندن کی جائیداد آف شور کمپنی کے زریعے بنائی۔

جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ بات عیاں ہے کہ اسلام آباد شہر میں دن دھاڑے کسی کو بھی جانے پہچانے صحافیوں کی طرح اٹھایا اور تشدد کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے،لیکن کسی میں یہ ہمت نہیں آئی کہ پوچھا جائے اغوا کار کون تھے،میڈیا پر بھی اس تفصیل میں جانے کی پابندی عائد ہے۔
الطاف حسین کے عظیم مداح فروغ نسیم اور شہزاد اکبر جیسے سیاسی جماعتوں کے اجرتی نوکر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو عہدے سے ہٹانا چاہتے ہیں۔

تحریری جواب کے مطابق ایف بی آر نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے شہزاد اکبر اور فروغ نسیم کو میرا خفیہ ریکارڈ فراہم کیا جو عبدالوحید ڈوگر نے استعمال کیا تاکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو عہدے سے ہٹایا جاسکے، ایف بی آر نے مجھے بھیجے گئے خفیہ نوٹس میڈیا کو فراہم کیے، پہلی بیرون ملک جائیداد 16 سال پہلے جبکہ باقی دو جائیدادیں سات سال پہلے خریدی گئیں،قانون کے مطابق ایف بی آر میں پانچ سال پرانے ٹیکس معاملہ کو جانچا نہیں جاسکتا،ایف بی آر پانچ سالہ حد کے قانون کے خلاف کیسے چل سکتا ہے۔

جواب کے مطابق دو ہزار اٹھارہ میں فنانس ایکٹ میں 116اے شق شامل کی گئی تو میں نے غیر ملکی آمدن اور اثاثوں کو دو ہزار اٹھارہ اور دو ہزار انیس کے ٹیکس سال میں ظاہر کر دیا،ایف بی آر نے یہ وضاحت نہیں کی قانون کی غیر موجودگی میں جس قانون کے تحت غیر ملکی انکم اور اثاثے ظاہر کیے جاتے، ایف بی آر مجھ سے پرانے گوشواروں بنک اکاؤنٹ کی تفصیل پوچھ رہا ہے لیکن میری بار بار درخواست کرنے کے باوجود مجھے پرانے گوشواروں کی تفصیل نہیں فراہم کی گئی، ایسا اس لیے کیا جارہا ہے تاکہ میں اپنے حافظے کے مطابق تفصیل دوں جو سابقہ ٹیکس گوشواروں سے متضاد ہوں۔

جواب میں ایف بی آر سے استدعا کی گئی ہے کہ عمران خان، فروغ نسیم، شہزاد اکبر اور انور منصور خا ن کی اور اُن کے اہل خانہ کی ذریعہ آمدن،ٹیکس گوشواروں اور ملکی و غیر ملکی بنک اکاؤنٹس کی مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں،اگر تفصیلات فراہم کی گئیں تو یہ عیاں ہو جائے گا کہ ایف بی آر نے تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کی ایما پر شکایت بنائی گئی، دہرا معیار بھی ظاہر ہو جائے گا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے