یونان: 13 ہزار تارکین کی جائے پناہ جلا دی گئی
یورپی ملک یونان میں تارکین وطن کا سب سے بڑا مرکز آگ سے تباہ ہو گیا ہے۔ آگ لگائے جانے کا الزام مختلف اطراف سے تارکین اور مقامی باشندوں پر لگایا جا رہا ہے۔
عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق موریا نامی اس کیمپ میں گنجائش سے زیادہ افراد کو رکھا گیا تھا۔
آگ اتنی شدید تھی کہ اسے بجھانے کے لیے فائر بریگیڈ کی دس گاڑیاں استعمال کی گئیں اور 25 فائر فائٹرز نے اس کام میں حصہ لیا۔
حکام کے مطابق آگ لگنے کے اس واقعہ میں مرکز میں مقیم تارکین وطن میں سے کچھ لوگ بھی ہوئے ہیں۔
حکام کے مطابق تاحال یہ واضح نہیں کہ آگ کیسے لگی تاہم کچھ لوگوں کا الزام ہے کہ آگ مرکز میں حکومت کی جانب سے محصور کیے گئے تارکین نے خود لگائی جبکہ بعض افراد اس کا الزام مقامی یونانی باشندوں پر لگا رہے ہیں۔
پولیس نے کیمپ کو جانے والی سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں تاکہ تارکین وطن یہاں سے فرار ہو کر قریبی قصبوں میں نہ چلے جائیں۔
تارکین کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیموں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے واقعہ پر تشویش ظاہر کی ہے۔

