کنڈکٹ دیکھا جائے تو سب وزرا مستعفی ہوں: عدالت
پاکستان کی داخلہ اور ریلوے کی وزارتوں نے سانحہ تیزگام کی تحقیقاتی رپورٹس اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرا دی ہیں جن میں 15 افراد کوسانحے کا ذمے دار قرار دیا گیا ہے۔ عدالت نے کیس کافیصلہ محفوظ کر لیا۔
جمعے کو سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ اتنے بڑے حادثے کے بعد ریلوے کے وزیر کو مستعفی ہو جانا چاہیے تھا۔
جسٹس محسن اخترکیانی نے ریمارکس دیے کہ اگر کنڈکٹ کو دیکھیں تو پاکستان کے سارے وزیروں کو استعفیٰ دینا پڑے گا، عدالت میں قانون کی بات کریں، اب اخلاقیات کا معیار اتنا ہائی نہیں۔موٹروے سانحے پر بھی تمام تفتیش میڈیا پر ہی ہو رہی ہے، ہرکوئی تفتیشی بنا ہوا ہے۔
جسٹس محسن اخترکیانی نے سانحہ تیز گام کی شفاف تحقیقات کےلیے دائر درخواست کی سماعت کی۔
وزارت داخلہ اور ریلوے نے سانحہ تیزگام سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ پیش کی جس میں 5 ہیڈ کانسٹیبلز کو سانحے کا براہ راست ذمہ دار قراردیا گیا ہے۔ ڈپٹی ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ کراچی، ڈویژنل کمرشل آفیسر کراچی، ایس ایچ او حیدر آباد اور خانپور غفلت کے مرتکب پائے گئے ہیں گئے ہیں، ریزویشن سپروائزر قمر شاہ پر بھی بے ضابطگی کی ذمہ داری عائد کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق تمام ذمہ داران کیخلاف ضابطے کی کارروائی شروع کی جا چکی ہے۔
جسٹس محسن اخترکیانی نے کہا کہ وزارت داخلہ اور ریلوے الگ الگ انکوائری کررہے ہیں۔ ایک کیس کی دوسری ایف آئی آر کیسے ہوسکتی ہے، ان حالات میں کیا کمیشن کی تشکیل کا حکم دیا جا سکتا ہے؟۔
درخواست گزار نے استدعا کہ وسیع ترمفاد میں آزادانہ تحقیقات کا حکم دیا جائے۔8 میتوں کی شناخت ابھی باقی ہیں، ان کے لواحقین کو بھی معاوضے کی ادائیگی یقینی بنائی جائے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے موٹروے سانحے کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ اس میں احتیاط برتنی چاہیے جو چیزیں جس طرح ہائی لائٹ ہوتی ہیں اس سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔

