پاکستان پاکستان24

ملاقات خفیہ رکھنا اُن کی ضرورت ہے ہماری نہیں: مولانا

ستمبر 25, 2020

ملاقات خفیہ رکھنا اُن کی ضرورت ہے ہماری نہیں: مولانا

پاکستان میں اپوزیشن پارٹی جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہاہے کہ عسکری قیادت اور پارلیمانی رہنماؤں کی ملاقات میں پاکستانی تاریخ میں پہلی مرتبہ پوری سیاسی قیادت نے تمام تر دباؤ کے باجود عسکری قیادت کی ملاقات کے ایجنڈے کو مسترد کردیا ہے، یہ بات کیوں نہیں بتائی جارہی ہے ، ملاقات کا اصل ایشو قومی سلامتی کے حواے سے گلگت بلتستان تھا جملہ معترضہ کے طور پر کچھ اور باتیں ہوئی ہوں گی لیکن اصل موضوع کو چھپایا گیا اور اپنے ناجائز ترجمانوں چیلوں کے ذریعے مختلف چینلوں پر سیاستدانوں کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کر دیا گیاہے۔

انہوں نے یہ باتیں جمعرات کو جامعہ حمادیہ منزل گاہ سکھر میں جمعیت علمائے اسلام سندھ کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ آج نیب سیاستدانوں کو گرفتار کرنے والا ادارہ بن گیا ہے۔ 1994 میں بھی میرے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا۔میرے پی ایس طارق خان کے والد کو نیب نے بلاکر گرفتار کیا ہے یہ مجھ پر آج پہلا حملہ کیا گیا ہے۔ اے پی سی کے بعد میرے خلاف بیان آنا ثابت کرتا ہے کہ میرا تیر نشانے پر لگا ہے۔ آج اے پی سی کے بعد انہیں یہ چیزیں یاد آگئیں۔

انہوں نے کہاکہ ہم اس دن کے انتظار میں تھے کہ تم ہمیں چھیڑو تاکہ ہم تم سے دو دو ہاتھ کریں۔کون بے وقوف ان نااہل حکمرانوں کو اپنا ٹیکس دیں گے۔اب تو حکومت کے پاس تنخواہیں دینے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔معاشی بحران کی وجہ سے قومیں ڈوبتی ہیں۔چائنہ آج معاشی حوالے سے جنگ لڑرہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ امریکہ چائنہ کو جنگ کی طرف کھینچ رہا ہے پاکستان کے ساتھ لڑانا چاہ رہا ہے۔اقوام متحدہ کے ہاں جس چیز کا نام قرارداد ہے ہمارے ہاں وہ قانون ہے۔اگر اقوام متحدہ کہہ دے کہ کشمیر کے مسئلے کو یوں کرنا چاہیئے تو وہی کیا جائے گا۔اقوام متحدہ جو کہے گا یہ لوگ کریں گے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ مساجد اور مدارس کے خلاف قانون سازی سے توجہ ہٹانے کے لئے فرقہ واریت پھیلائی جارہی ہے اور پاکستان کے خلاف سب سے بڑا ہوم ورک تیار کیا جارہا ہے۔ایک کتاب چھاپی گئی پیغام پاکستان کے نام سے جس پر کہا گیا کہ دو ہزار سے زائد علماء کرام کے دستخط ہیں۔ 1951ء میں 22 اسلامی نکات طے ہوئے جسے پر تمام مکاتب فکر نے اتفاق کیا۔لیکن جب سے پاکستان بنا آج تک ان قراردادوں پر عملدرآمد نہیں کیا جارہا ہے ۔اس قسم کے لوگ اس روئیوں کے ساتھ ملک کو چلا رہے ہیں ، موجودہ حکومت ہے وہ ناجائز حکومت ہے۔آج کے حکمران پر رونا آرہا ہے جس کو پہلی اولاد بھی ناجائز ملی اور حکومت بھی ناجائز ملی۔حکومت کے کچھ لوگ آئے روز ایک بیان مار دیتے ہیں کہ فلاں سیاستدان کی خفیہ ملاقات آرمی چیف سے ہوئی۔کبھی اس میں میرا اور کبھی کسی اور کا نام لیتے ہیں۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ نے کہاکہ ملاقات کو خفیہ رکھنا ان کی ضرورت ہے ہماری نہیں۔لیکن ایک بات واضح ہوگئی کہ سیاستدانوں کا رویہ نرم ہے۔یہ خبریں جو لوگ نکال رہے ہیں کہ یہ ایک حکومت کا حلقہ ہے جو سیاستدانوں اور فوج کو لڑانا چاہ رہے ہیں۔میں ایک سیاستدان ہوں میں ایسے لوگوں کے بیان کا جواب نہیں دیتا۔فوج یہ بتائے کہ جو لوگ یہ بول رہے ہیں کیا وہ فوج کے ترجمان ہیں، پھر میں ان کا جواب دوں گا۔میں فوج کی قیادت سے بھی سینئر ہوں۔جب آرمی چیف کیپٹن تھے تب میں پارلیمنٹ میں تھا۔ وضاحت کی جائے کہ بیان دینے والے لوگ فوج کے نمائندے بن کر بات کررہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ فاٹا میں دو سال سے لوگ رل رہے ہیں۔فاٹا میں کوئی پولیس اور قانون موجود نہیں بس آج تک فوج موجود ہے جیسے پہلے تھی۔اس وقت بھی فوج ہمیں کہتی تھی کہ فاٹا نہیں جانا اور آج بھی کہتی ہے کہ ہمیں وہاں نہیں جانا، تو کہاں ہے انضمام؟ فاٹا ہماری پہلے ترجیح ہے ۔ایک ہفتہ پہلے آرمی چیف جنرل باجوہ صاحب نے پارلیمنٹ لیڈرز کو بلایا تھا۔آرمی چیف نے بلایا کس وجہ سے تھا اور خبریں کیا چلائی گئیں۔جس موضوع پر آرمی چیف نے بلایا تھا اسے چھپایا گیا۔ہم کیا سمجھیں کہ اس تبدیلی اور سیاست کے پیچھے کون ہے۔جن قانون لکھا جاتا ہے، بل تیار کیا جاتا ہے تو اس کا مقصد بیان کیا جاتا ہے۔ یہ بات بھی کیوں نہیں بتائی جارہی ہے کہ پہلی بار ملاقات کرنے والے سیاستدانوں اجتماعی طور پر منصوبے مسترد کیا۔

انہوں نے کہاکہ اس میں لکھا کے ایف اے ٹی ایف کہتا ہے کہ ہم قانون سازی کریں۔آپ بتائیں کہ پاکستان کی آزادی اور پارلیمنٹ کی خودمختاری کہاں گئی۔اقوام متحدہ کا چارٹر قوموں کو اس کی آزادی کے لیے لڑنے کا حق دیتا ہے۔آج اپنی آزادی کے لیئے لڑنے والوں کو دہشت گرد کہا جارہا ہے۔اگر لیبیا پر قبضہ کیا جاتا ہے اور وہاں کے لوگ اپنی آزادی کی جنگ لڑتے ہیں تو انہیں دہشتگرد کہا جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان میں دوسال سے کوئی قانون سازی نہیں ہوئی، اگر قانون سازی ہوئی تو آرمی ایکٹ میں ہوئی جس میں آرمی چیف کو ایکسٹنشن ملی یا ایف اے ٹی ایف پر قانون سازی ہوئی ، بین الاقوامی دنیا نے آج تک دہشت گردی کی تعریف نہیں کی ، اقوام متحدہ کا چارٹر اپنی آزادی کیلئے لڑنے کا حق دیتا ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے