پاکستان

بچے کی دیکھ بھال ماں ہی کر سکتی ہے: عدالت

اکتوبر 6, 2020

بچے کی دیکھ بھال ماں ہی کر سکتی ہے: عدالت

سیشن جج راولپنڈی نے بچہ حوالگی کیس میں کہا ہے کہ ماں ہی بہتر انداز میں بچے کی دیکھ بھال کر سکتی ہے ۔عدالت نے قرار دیا کہ والد بیٹے سے ملاقات کا مکمل حق رکھتا ہے ،فریقین کو بچے کی حتمی حوالگی کیلئے گارڈین کور ٹ سے رجوع کرنے کا حق حاصل ہے ۔

نیوز ڈیسک

راولپنڈی کے سیشن جج محمد طارق جاوید نے نابالغ بچے کی والد کے غیر قانونی تحویل میں ہونے کے خلاف درخواست پر سماعت کی ۔سیشن جج راولپنڈی کی عدالت میں درخواست گذار نازیہ بی بی نے ایڈووکیٹ شہلا سیماب کے زریعے ضابطہ فوجداری کی شق 491کے تحت درخواست دائر کی تھی ۔

ضابطہ فوجداری کی شق 491 نابالغ بچے کو غیر قانونی حراست میں رکھنے میں متعلق ہے ۔اسی قانونی شق کی بنیاد پر درخواست گذار نے بچہ بازیاب کرکے ماں کے حوالے کرنے کیلئے عدالت سے رجوع کیا تھا۔

سیشن جج راولپنڈی چوہدری محمد طارق جاوید نے جب سماعت کا آغاز کیا تو درخواست گذار ماں کی وکیل ایڈووکیٹ شہلا سیماب نے دلائل میں کہا اُن کی موکلہ کا تین سالہ بیٹا نعیم خان (والد) سے بازیاب کروا کر ماں کے حوالے کیا جائے ۔

والد کے وکیل نے عدالت میں موقف اپنایا کہ وہ بچے کو اپنے پاس رکھنے کے حق سے باہمی رضامندی کی بنیادپر دستبردار ہو تے ہیں ، بچے کی حوالگی کا اختیار گارڈین کور ٹ کو حاصل ہے مستقبل میں اس فورم سے رجوع کیا جائے گا ۔

بعد ازاں عدالت نے ایڈووکیٹ شہلا سیماب کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے قرار دیدیا ایک ماں بچے کی دیکھ بھال بہتر انداز میں کرسکتی ہے ، عارضی طور پر بچہ ماں کے حوالے کیا جائے ، نازیہ بی بی بچے کی حقیقی ماں ہے۔

سیشن جج راولپنڈی نے تحریری فیصلے میں کہا کہ والد کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ بچے سے ملاقات کر سکے،بچے کی حوالگی سے متعلق حتمی فورم گارڈین کورٹ ہے ، دونوں فریقین حق کے حصول کیلئے گارڈین کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں ۔عدالت نے مقدمہ نمٹا دیا ۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے