سپریم کورٹ کا وزیراعظم کو نوٹس، وکلا کنونشن کی قانونی حیثیت کیا؟
پاکستان کی سپریم کورٹ نے وزیراعظم عمران خان کو کنونشن سینٹر میں وکلاء کی ایک تقریب میں شرکت کرنے پر نوٹس جاری کیا ہے۔ عدالت نے اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب، انچارج کنوشن سینٹر اور متعلقہ وزارتوں کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے معاملے پر بنچ تشکیل دینے کے لیے عدالتی حکم نامہ چیف جسٹس کو ارسال کیا۔
پیر کو سپریم کورٹ میں ایک دیوانی مقدمے کی سماعت کے دوران وزیراعظم عمران خان کا کنونشن سینٹر میں وکلاء کی تقریب کا ذکرہوا۔
جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ وزیراعظم ریاست کے وسائل کا غلط استعمال کیوں کررہے ہیں،یہ معاملہ آئین کی تشریح اور بنیادی حقوق کا ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مزید کہا کہ بظاہر کنونشن سینٹر میں وزیراعظم نے ذاتی حثیت میں شرکت کی،وزیراعظم کی کسی خاص گروپ کے ساتھ لائن نہیں ہوسکتی،وزیراعظم نے وکلاء کی تقریب میں شرکت کرکے کسی ایک گروپ کی حمایت کی،انچارج کنونشن سینٹر بتائیں کہ کیا اس تقریب کے اخراجات ادا کیے گیے،وزیراعظم نے نجی حثیت میں کنونشن سینٹر کا استعمال کیا،وزیراعظم ملک کے ہر فرد کا وزیراعظم ہے۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب قاسم چوہان نے کہا کہ ہر سیاسی جماعت کا ایک وکلا ونگ ہے،آئین کا آرٹیکل 17 جلسے جلوس کی اجازت دیتا ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا وزیراعظم کو رتبہ بہت بڑا ہے،یہ تقریب کسی پرائیوٹ ہوٹل میں ہوتی تو اور بات تھی،تقریب کیلئے ٹیکس دینے والوں کے ویونیو کا استعمال کیا گیا،ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کی اپنی ذمہ داریاں ہیں،ایڈووکیٹ جنرل پنجاب ایسی سرگرمیوں سے شرکت ہوئے جن کا اس سے تعلق نہیں،ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بننے کے بعد وہ اس قسم کی سرگرمیوں میں کیسے شریک ہوسکتے ہیں۔

