پاکستان24 متفرق خبریں

اوپن بیلٹ کیس، سپریم کورٹ کو میثاق جمہوریت کی یاد آ گئی

فروری 18, 2021

اوپن بیلٹ کیس، سپریم کورٹ کو میثاق جمہوریت کی یاد آ گئی

سپریم کورٹ میں سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے کرانے کے کیس میں چاروں صوبوں ایڈووکیٹ جنرل نے دلائل مکمل کر لیے۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ کہ فرض کریں ووٹنگ کے دوران پیسوں کے لین دین کے ثبوت موجود ہیں پھر الیکشن کمیشن کیسے تحقیق کرے گا؟

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے جواب دیا کرپٹ پریکٹس، رشوت ستانی جیسے غیر قانونی اقدام کی سزا کے تعین کیلئے الیکشن ایکٹ موجود ہے، ووٹ بیچنے والے کا ووٹ دیکھ بھی لیں تو اس سے یہ کیسے ثابت ہوگا کہ پیسے لیے گئے، صرف ووٹ دیکھ لینے سے کرپشن ثابت نہیں ہو سکتی۔

رپورٹ: جہانزیب عباسی

جمعرات کو چیف جسٹس گلزار احمد نے سماعت کے آغاز پر کہا کہ ہم نے دو ہزار اٹھارہ کے سینیٹ انتخابات سے متعلق ایک دستاویز نکالی ہے، کیا الیکشن کمیشن نے حالیہ سینیٹ انتخابات کے لیے ایسا کوئی دستاویز تیار کی ہے۔

الیکشن کمیشن کے وکیل نے جواب دیا کہ عدالت جس دستاویز کی بات کر رہی ہے یہ ووٹر کے لیے ہدایت نامہ ہے،ہم نے اس سینیٹ انتخابات کیلئے بھی ہدایت نامہ تیار کیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وہ دستاویز لے کر آئیں۔

عدالت نے سینیٹ انتخابات میں الیکشن کمیشن کی طرف سے ووٹر کا ہدایت نامہ طلب کر لیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہدایت نامے کی پانچ کاپیاں کروا کر پانچوں جج صاحبان کو فراہم کی جائیں۔

پنجاب حکومت کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ میں اٹارنی جنرل کے دلائل پر انحصار کرتا ہے، پارلیمنٹ پاکستان کا قابل احترام ادارہ ہے، اسی لیے پارلیمانی رہنما کو رکن اسمبلی کے خلاف کارروائی کا اختیار دیا گیا ہے، میں متناسب نمائندگی پر دلائل دینا چاہوں گا،اٹارنی جنرل نے مفصل دلائل دیے ہیں میرے بھی وہ دلائل ہیں،صرف اس میں متناسب نمائندگی سے متعلق نکتے میں اضافہ کروں گا، پارلمینٹ سپریم ادارہ ہے، اس کے وقار کا تحفظ ضروری ہے،اسی وجہ سے اراکینِ اسمبلی پر کچھ پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں۔

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے مزید کہا جمہوریت کا تسلسل پارلمینٹ کی وجہ سے ہے،ووٹنگ کے میکانزم میں سیکریسی بھی اس وجہ سے رکھی گئی،لیکن ساتھ ہی اراکینِ اسمبلی کو پابند کیا گیا کہ وہ اپنی پارٹی کے ڈسپلن کی پیروی کریں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کیا قانون میں کہیں لکھا ہوا ہے کہ ووٹ کی رازداری ہمیشہ کیلئے رہے گی۔پنجاب حکومت کے وکیل نے کہا بالواسطہ انتخابات میں اراکین پارٹی ضابطے پر عمل درآمد کے پابند ہیں،ماضی میں مینڈیٹ چوری ہونے کے واقعات رونما ہو چکے ہیں،حال ہی میں آصف علی زرداری نے ایک بیان میں کہا ہم دس کی دس نشستیں جیتیں گے، آصف علی زرداری کا یہ بیان سیاسی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے آپ بھارتی آئین کا حوالہ دے رہے ہیں،بھارتی آئین کا حوالہ یہاں کے آئین سے مطابقت نہیں رکھتا۔

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کے وکیل کے دلائل مکمل ہونے کے بعد ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے دلائل دیتے ہوئے کہا سینٹ انتخابات آرٹیکل 226 کے تحت ہوتے ہیں،226 انتخابات کو خفیہ رکھنے کا پابند کرتا ہے،آئین کے تحت ہونے والے انتخابات خفیہ ہوتے ہیں. ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے دلائل میں مزید کہا کابینہ کی منظوری کے بعد وفاقی حکومت ترمیم چاہتی ہے،اٹارنی جنرل نے اس کی وضاحت کردی ہے،کابینہ کے پاس یہ معاملہ تھا لیکن انہوں نے بوجھ خود نہیں اٹھایا،سارا بوجھ انہوں نے عدالت پر ڈال دیا،سپریم کورٹ کا دائرہ ایڈوائزری ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے چیف جسٹس نے مکالمہ کرتے ہوئے پوچھا وہ کیسے؟۔ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے جواب دیا عدالت صرف اٹھائے گئے سوالات کے جواب دے سکتی ہے،اب بہت ساری باتیں ہورہی ہیں، بہت کچھ سنا جارہا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا ہمیں ان باتوں سے غرض نہیں۔جسٹس اعجا زالااحسن نے کہا ووٹ کی رازداری ختم کرنے کا مطلب یہ نہیں کرپشن ہوئی ہے، الیکشن کمیشن کو تحقیقات کا اختیار ہونا چاہیے، الیکشن کمیشن کو یہ جانچنے کا حق ہونا چاہیے ووٹنگ کے دوران پیسوں کا تبادلہ تو نہیں ہوا،ووٹ کو خفیہ رکھ کر مکمل دروازہ بند نہیں کیا جاسکتا۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے دلائل میں مزید کہاایڈوکیٹ جنرل سندھ نے دلائل میں کہا سینٹ انتخابات آرٹیکل 226 کے تحت ہوتے ہیں، 226 انتخابات کو خفیہ رکھنے کا پابند کرتا ہے،آئین کے تحت ہونے والے انتخابات خفیہ ہوتے ہیں، کابینہ کی منظوری کے بعد وفاقی حکومت ترمیم چاہتی ہے،اٹارنی جنرل نے اس کی وضاحت کردی ہے،کابینہ کے پاس یہ معاملہ تھا لیکن انہوں نے بوجھ خود نہیں اٹھایا، سارا بوجھ انہوں نے عدالت پر ڈال دیا،سپریم کورٹ کا دائرہ ایڈوائزری ہے۔

چیف جسٹس نے پوچھا وہ کیسے؟ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہاعدالت صرف اٹھاۓ گئے سوالات کے جواب دے سکتی ہے، اب بہت ساری باتیں ہورہی ہیں، بہت کچھ سنا جارہا ہے. چیف جسٹس نے کہا ہمیں ان باتوں سے غرض نہیں۔اے جی سندھ نے کہا یہ مکمل سیاسی معاملہ ہے، عدالت اس سے پہلو تہی کرے،عدالت خود کو سیاست سے بالاتر رکھے۔

چیف جسٹس نے کہاآئین میں خود سیاسی قوانین موجود ہیں، ہم نے آئین کو دیکھنا ہے۔اے جی سندھ نے کہا کہ سینٹ انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، الیکشن کمشن کو اپنی زمہ داری پوری کرنے دیں،کرپٹ پریکٹسز کی روک تھام بھی عدالت نہیں بلکہ الیکشن کمیشن کا کام ہے، کرپٹ پریکٹسز، رشوت ستانی و غیر قانونی پریکٹسز نہیں ہونی چاہیے،الیکشن ایکٹ 2017 میں سب کچھ موجود ہے، الیکشن کے مراحل اور ان کا طرہقہ کار سب وضع شدہ ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے مزید کہا کہ آرٹیکل 226 بالکل واضح ہے۔ چیف جسٹس نے کہا یہ سب ٹھیک ہے لیکن آپ ووٹ کاسٹ کرنے کے وقت سے متعلق بتائیں، کیا ووٹ کی چھان بین کی جاسکتی ہے کہ یہ قانون کے تحت کاسٹ ہوا یا نہیں. اے جی سندھ نے کہا بیلٹ پیپر ووٹر کے ہاتھ میں آنے کے بعد اسے کوئی نہیں دیکھ سکتا، کسی کو اجازت نہیں دیکھے کہ ووٹر نے کس کو ووٹ دیا، ووٹ کا اپنا تقدس ہے جس کو مجروح نہیں کیا جاسکتا،ووٹ کی خفیہ شناخت کو مکمل تحفظ حاصل ہے، کہا جارہا ہے کہ ووٹ بکتے ہیں، فرض کرلیں ووٹ بکتے بھی ہیں لیکن پھر بھی اسکی شناخت نہیں ہو سکتی۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا ووٹ کے سیکریسی صرف بیلٹ بکس تک ہوتی ہے، اگر قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہو تو ٹریبونل یا الیکشن کمشن کیسے دیکھ سکتا ہے، شکایت کی صورت میں کیا الیکشن کمیشن ووٹ کی شناخت کرسکتا ہے۔

اے جی سندھ نے کہا نہیں ایسا نہیں کرسکتا،مجھے ووٹ کاسٹ کرتے تو دیکھا جاسکتا ہے لیکن کس کو ووٹ دیا کوئی نہیں دیکھ سکتا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ ووٹ کی شناخت نہیں کی جاسکتی،افسوس ہے پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے اپنے ہی معاہدے پر عمل درآمد نہیں کیا، دونوں جماعتوں نے میثاقِ جمہوریت میں خفیہ طریقے کار کو ختم کرنے کا معاہدہ کیا تھا،میثاق جمہوریت کی دستاویز اب بھی موجود ہے، لیکن اس پر دستخط کرنے والی پارٹیاں اب اس پر عمل نہں کررہی۔

اے جی سندھ نے کہا کہ پارٹی ضابطے کیخلاف ووٹ دینے والے سے پارٹی سربراہ پوچھ سکتا ہے،الیکشن ایکٹ میں تمام طریقہ کار موجود ہے۔جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں ووٹنگ کے دوران پیسوں کے لین دین کی تحقیق کا دروازہ بند ہے۔

جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا کیا ووٹنگ کے دوران مجرمانہ عنصر سامنے آنے پر بھی مکمل استثناء حاصل ہوگا۔چیف جسٹس نے کہا فرض کریں ووٹنگ کے دوران پیسوں کے لین دین کے ثبوت موجود ہیں پھر الیکشن کمیشن کیسے تحقیق کرے گا۔ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے جواب دیا کرپٹ پریکٹس، رشوت ستانی جیسے غیر قانونی اقدام کی سزا کے تعین کیلئے الیکشن ایکٹ موجود ہے، ووٹ دینے کیلئے پیسوں کے لین دین کا ثبوت ہونا چاہیے، ووٹ بیچنے والے کا ووٹ دیکھ بھی لیں تو اس سے یہ کیسے ثابت ہوگا کہ پیسے لیے گئے،اگر کوئی ویڈیو یا تصویر آبھی جائے تو کیسے تعین ہوگا کس نے پیسے دیئے یا کس نے ووٹ بیچا،صرف ووٹ دیکھ لینے سے کرپشن ثابت نہیں ہو سکتی، کرپٹ پریکٹس کو ثابت کرنے کا طریقہ کار طے شدہ ہے،قانون کے تحت مخصوص نشستوں کی متناسب نمائندگی کیلئے سیاسی جماعتیں فہرستیں جمع کراتی ہیں۔چیف جسٹس نے کہا مخصوص نشستوں کا تعین آئین کے تحت نہیں ہوتا۔اے جی سندھ نے کہا ایوان بالا 96 اراکین پر مشتمل ہوتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا جی ٹھیک ہے، ایڈووکیٹ جنرل سندھ صاحب آپ کا شکریہ۔

اے جی سندھ نے کہا میرے ابھی دلائل رہتے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا ہم آپ سے آئین کی تشریح کا پوچھ رہے ہیں۔

اے جی سندھ نے دلائل میں کہا آئین کا آرٹیکل 226 بالکل واضح ہے،آئین میں ترمیم کیے بغیر وفاقی حکومت کی خواہش پوری نہیں ہوسکتی۔بلوچستان حکومت کے وکیل نے دلائل میں کہا پوری دنیا میں کرپٹ پریکٹس ہوتی رہی اسے روکنے کیلئے اقدامات کیے گئے۔اے جی آئی سی ٹی نے دلائل میں کہا سن دو ہزار اٹھارہ کے سینیٹ انتخابات کے کرپشن کے واقعات سامنے آچکے ہیں، سن انیس سو ستانوے میں ایک ووٹ پر پاکستان مردہ باد لکھا گیا، ابھی تک اس ووٹ کی تحقیق نہیں ہوسکی کس نے ڈالا تھا۔

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب، ایڈووکیٹ جنرل سندھ، ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کے دلائل مکمل کر لیے ہیں۔ ایڈووکیٹ جنرل کے پی اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کے بھی دلائل مکمل کر لیے گئے۔

چیف جسٹس نے کہا کل دن ساڑھے دس بجے سے لے کر ساڑھے گیارہ بجے تک ایک گھنٹہ کیس سنیں گے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے