مجھے وزیراعظم کے مقدمات سننے سے روکنے کا فیصلہ غیر آئینی ہے: جسٹس قاضی فائز
پاکستان کی سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان سے متعلق مقدمات سننے سے روکے جانے کے عدالتی فیصلے پر عہدے سے مستعفی ہونے کا سوچا، لیکن پھر خیال آیا یہ ایک جج سے زیادہ آئین اور عوامی حقوق کا معاملہ ہے۔
رپورٹ: جہانزیب عباسی
سنیچر کو تحریر کیے اختلافی نوٹ میں جسٹس فائز نے لکھا ہے کہ میں اللہ کی مدد سے آئین پاکستان اور عوام کے حقوق کی حفاظت جاری رکھوں گا۔
اختلافی نوٹ کے مطابق بنچ سے مشاورت کیے بغیر چیف جسٹس نے فیصلہ دیا کہ وزیراعظم سے متعلق مقدمات میں نہیں سن سکتا، سپریم کورٹ کے حکمنامے میں کسی جج کے دستخط نہیں ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ ایسا سمجھا جائے جیسے وہ وجود ہی نہیں رکھتا، وزیراعظم ترقیاتی فنڈز کیس زیر التواء سمجھا جائے۔
اختلافی نوٹ میں لکھا گیا ہے کہ مجھے وزیراعظم سے متعلق مقدمات سننے سے روکنے کا فیصلہ غیر آئینی ہے۔
وزیر اعظم کی جانب سے ارکان اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز جاری کرنے کے کیس میں جسٹس قاضی فائز عیسی نے 28 صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ میں کہا ہے کہ جج کسی غیر قانونی کام کا نوٹس لے سکتا ہے۔
”چیف جسٹس پاکستان نے میری شہرت کو داغدار کیا، اٹارنی جنرل سمیت کسی فریق نے میری ذات پر اعتراض نہیں کیا۔ چیف جسٹس کی جانب سے مجھے جانبدار کہنا افسوسناک ہے۔“
انہوں نے لکھا ہے کہ وزیراعظم کے بیان پر سپریم کورٹ نے نوٹس لیا تھا اور بظاہر وزیراعظم کا بیان غیر آئینی تھا، غیر متوقع طور پر کیس کو ختم کر دیا گیا، ایک جج کو آئینی ذمہ داری پوری کرنے سے روکا گیا۔
جسٹس فائز کے اختلافی نوٹ کے مطابق دو رکنی بینچ نے عوامی مفاد یقینی بنانا چاہا مگر اسے روک دیا گیا، اور چیف جسٹس نے نیا بینچ تشکیل دے دیا۔
”میں نے چیف جسٹس آف پاکستان کو ایک خط لکھا، ایک جج کا حلف اسے اپنی صلاحیتوں اور صداقت سے فیصلے کرنے کا پابند کرتا ہے، میرے لیے عدالتی فیصلہ تکلیف دہ تھا، اگر اختلافی نوٹ سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہو تو معافی چاہتا ہوں۔“

