پاکستان

الیکشن مضبوط اعصاب کے مالک شخص کو لڑناچاہیے: چیف جسٹس

فروری 22, 2021

الیکشن مضبوط اعصاب کے مالک شخص کو لڑناچاہیے: چیف جسٹس

سپریم کورٹ میں سینیٹ انتخابات کیس،پیپلز پارٹی کے وکیل رضا ربانی نے دلائل میں کہا ہے کہ ایک اخبار میں خبر چھپی جس میں کہا گیا حکمران جماعت کو کراچی فنڈز اور جلد مردم شماری کرانے کے وعدے پر سندھ سے سات ووٹوں کی یقین دہانی کرائی گئی،کیا عدالت اسے کرپٹ پریکٹس کہے گی۔

رپورٹ: جہانزیب عباسی

چیف جسٹس نے کہا ہم ہر زاویے کو دیکھیں گے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے انصاف کا بول بالا ہو کر رہتا ہے۔ رضا ربانی بولے انصاف ملنے تک لوگ کہیں خود کشی نہ کر لیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے مضبوط اعصاب کے مالک شخص کو ہی انتخابی عمل کا حصہ بننا چاہیے۔

سپریم کورٹ میں سینیٹ انتخابات کیس کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجربنچ نے کی. جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا جس سیاسی جماعت کو سینیٹ میں چھ نشستیں ملنی چاہیں اگر انھیں دو نشستیں ملیں تو پھر متناسب نمائندگی کا کیا ہوگا. پیپلز پارٹی کے وکیل رضا ربانی نے کہا کہ یہ کوئی ریاضی کا سوال نہیں ہے،اگر حکومت خود کرپٹ پریکٹس میں ملوث ہو تو پھر کیا ہوگا،میں کوئی سیاسی بات نہیں کرنا چاہتا لیکن ایک اخبار میں خبر چھپی ہے، خبر میں کہا گیا حکمران جماعت کو کراچی فنڈز اور جلد مردم شماری کرانے کے وعدے پر سندھ سے سات ووٹوں کی یقین دہانی کرائی گئی،کیا عدالت اسے کرپٹ پریکٹس کہے گی۔

چیف جسٹس نے کہا ہم ہر زاویے کو دیکھیں گے۔ رضا ربانی نے مزید کہا کہ ایک اور مثال دیتا ہوں،ایک صوبائی اسمبلی کے اراکین کا گروپ قوم پرست جماعتوں کیساتھ مل کر فیصلہ کرے ہم فلاں کو ووٹ دیں گے. جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا پھر اسے چھپانے کی کیا ضرورت ہے. رضا ربانی نے کہا کہ ہم متن سے ہٹ کر چیزوں کو نہیں دیکھ سکتے،ہم ایک قبائلی اور جاگیردارانہ بڑے نظام میں رہ رہے ہیں،جب بیس ریٹرنگ افسران کو تحفظ نہیں مل سکا تو عام آدمی کیسے محفوظ ہے،وہ عام لوگ جن کے پاس زاتی محافظوں کی فوج نہیں ہے انھیں کون تحفظ دے گا،ایسے حالات میں عام آدمی کا کیا ہوگا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہماری تاریخ اختلاف کرنے والوں سے بھری ہوئی ہے،کوئی کھڑا ہو کر سرعام اختلاف کرے،اختلاف رائے کرنے کو آئینی تحفظ حاصل ہے۔

رضا ربانی نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں ایسا نہیں ہوتا،آرٹیکل 10 اے کی موجودگی میں لاپتہ افراد کا مسئلہ موجود ہے،اس وقت لاپتہ افراد کہاں ہیں،اعلیٰ ترین حکام کو نوٹس جاری کرنے کے باوجود لاپتہ افراد کا معاملہ حل نہیں ہوا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آئین وجود تو رکھتا ہے لیکن حقیقت میں اس پر عمل نہیں ہورہا. رضا ربانی نے جواب دیابالکل ایسے ہی ہے آئین پاکستان پر عمل نہیں ہو رہا۔

چیف جسٹس نے کہا تو پھر کیا آئین کی خلاف ورزی کا آغاز 1993سے ہوا. رضا ربانی نے کہا میں کسی پر الزام نہیں لگا رہا. جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا اگر کچھ گڑ بڑ ہو تو الیکشن کمیشن دیکھ سکتا ہے۔ رضا ربانی نے جواب دیا الیکشن ایکٹ میں پورا طریقہ کار موجود ہے. جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا اگر اہم ثبوت چھوڑ دیں تو کرپٹ پریکٹس کی روک تھام کیسے ہوگی۔

رضا ربانی نے کہا کہ کچھ دن پہلے جعلی ڈگری کی بنیاد پر ایک سینیٹر کی نااہلی کی مثال موجود ہے۔

رضا ربانی نے کہا کہ جعلی ڈگری کا معاملہ الگ ہے. رضا ربانی نے دلائل میں مزید کہا بیلٹ پیپر کی شناخت کو ظاہر کرنا آئینی خلاف ورزی ہے، ویسے بھی یہ ایک حقیقت ہے کہ ڈیپ اسٹیٹ کو بیلٹ پیپر تک رسائی ہوتی ہے،ڈیپ اسٹیٹ کو نتائج کا بھی پتہ ہوتا ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد بیلٹ پیپرز سیل کر دیے جاتے ہیں۔

رضا ربانی نے جواب دیا ڈیپ اسٹیٹ کو سب کچھ پتہ ہوتا ہے،آپ کو بھی معلوم ہے، ویڈیو بنا لی جاتی ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا ہر بات ایسے نہیں ہے جیسے آپ کہہ رہے ہیں، یہاں اپیلوں کا حق حاصل ہوتا ہے اور انصاف کا بول بالا ہوتا ہے۔

رضا ربانی نے کہا کہ میرے جیسا بندہ تو انصاف کی فراہمی سے مایوس ہو کر خودکشی کر لے گا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایسے نہ کہیں آپ مضبوط اعصاب کے مالک ہیں، انتخابات ایسے شخص کو لڑنا چاہیے جو مضبوط اعصاب کا مالک ہو۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے رضا ربانی سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آپ جس سسٹم کو جاری رکھنا چاہتے ہیں وہ انفرادی ہیروازم کو فروغ دیتا ہے،جمہوریت کا تقاضا یہ ہے کہ پارٹی سسٹم مضبوط ہو، جب تک ہم عرصہ دراز سے جاری طریقہ کار میں تبدیلی نہیں لائیں گے جمہوریت کی مضبوطی یہ خواب رہے گی،ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس حوالے سے بھی دلائل دیں۔

رضا ربانی نے کہا کہ پارلیمانی نظام زوال کی طرف جا رہا ہے، میں بھی کسی ایک دور کو مورد الزام نہیں ٹھہرا رہا،صرف پارلیمان ہی نہیں عدلیہ بھی اس عمل سے متاثر ہوا،عدلیہ نے بھی عملاً بہت سے مشکلات دیکھی ہیں،عدلیہ نے کسی حد تک استحکام حاصل کر لیا لیکن پارلیمان نہیں کر سکا،اوپن بیلٹ سسٹم کے تحت ووٹر نا صرف ڈیپ سٹیٹ بلکہ سٹیٹ اور پارٹی سربراہ کے ہاتھوں بھی محفوظ نہیں رہے گا. عدالت نے کیس کی سماعت منگل دن بارہ بجے تک ملتوی کر دی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے