دیکھیں گے کیا ڈسکہ میں پولنگ روکنے کا ماحول بنایا گیا: الیکشن کمیشن
پنجاب میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 میں ضمنی الیکشن میں بدانتظامی اور نتائج روکے جانے کے خلاف امیدواروں کی دائر درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر نے کہا ہے کہ پولنگ ڈے پر موٹرسائیکل سوار گروپ فائرنگ کرتے رہے۔
منگل کو الیکشن کمیشن میں سماعت کے دوران بڑی سکرین پر ویڈیو دیکھتے ہوئے کمیشن کے ارکان نے کہا کہ فائرنگ روکنے کے لیے امیدوار کا علاقے میں موجود ہونا اچھی علامت ہے۔
الیکشن کمیشن میں این اے 75 ضمنی انتخاب کیس میں ن لیگ کی امیدوار نوشین افتخار نے کہا کہ مجھے پولیس نے روکا گولی مارنے کی دھمکی دی گئی۔
نوشین افتخار کے مطابق جس ڈی ایس پی نے فون نہیں اٹھایاوہ یہ سب کرتے رہے۔
لیگی امیدوار نوشین افتخار نے کہا کہ میرے والد جنرل الیکشن چالیس ہزار کی لیڈ سے جیتے، ہماری جیت یقینی تھی،تو ہم ایسا کیوں کرتے؟ میرے بھائی کو گرفتار جبکہ مجھے بچوں کے سامنے گرفتار کیا گیا۔
الیکشن کمیشن کے سامنے پی ٹی آئی کے امیدوار اسجد ملہی نے موقف اختیار کیا کہ ٹیلی فون پر نتائج موصول ہوتے رہے، ن لیگ کو معلوم ہوا وہ ہار رہے تو ایشو کھڑا کیا۔ الیکشن کمیشن کے ممبر ارشاد قیصر نے کہا کہ 23 پولنگ اسٹیشن کے حوالے سے درخواست ساڑھے تین بجے آئی۔
تحریک انصاف کے امیدوار کے وکیل نے کہا کہ ہمارے پاس نتائج کے فارم موجود ریکارڈ پیش کر دیں گے۔ میرے نتائج جاری کیے جائیں میں الیکشن جیت چکا ہوں۔
الیکشن کمیشن کے ممبر نے کہا کہ افسر کو بر وقت نتائج نہیں ملے۔
ممبر الیکشن کمیشن الطاف ابراہیم نے پی ٹی آئی امیدوار کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ وہ حالات سے کیوں بے خبر ہیں؟
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ہمیں اُس سے غرض نہیں ہے کو جیتتا، کون ہارتا ہے۔ اگر جند پولنگ اسٹیشن کا معاملہ ہے تو دوبارہ پولنگ کرائی جائے گی۔ اگر حلقے میں یہ ماحول بنایا گیا ووٹرز کو ووٹ نہیں ڈالنے دیا گیا تو سارا ماحول دیکھنا چاہتے ہیں۔
پی ٹی آئی کے امیدوار سے تمام تفصیلات طلب کر لی گئیں۔
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ کوئی دستاویزات فراہم کرنا چاہتے ہیں تو دیدیں۔ ممبر الطاف ابراہیم نے کہا کہ وقت مختصر ہے جو بھی ہے جلدی تفصیلات فراہم کریں۔ دونوں فریقوں کے پاس موجود نتائج کو ملا کر دیکھیں گے۔
چیف الیکشن کمشنر نے ہدایت کہ کل تک ریکارڈ فراہم کر دیا جائے۔
سماعت 25 فروری تک ملتوی کر دی گئی۔

