سینیٹ الیکشن پر جسٹس یحییٰ آفریدی کی اختلافی رائے کیا؟
پاکستان میں پارلیمان کے ایوان بالا (سینیٹ) کے الیکشن اوپن بیلٹ سے کرانے کے لیے صدارتی ریفرنس میں سپریم کورٹ نے رائے دے دی ہے۔
سپریم کورٹ نے اپنی رائے میں کہا ہے کہ سینیٹ الیکشن خفیہ بیلٹ سے ہی ہوں گے تاہم بیلٹ کی سیکریسی ہمیشہ کے لیے نہیں۔
سپریم کورٹ نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے سے متعلق صدارتی ریفرنس پر مختصر حکمنامہ جاری کر دیا
آٹھ صفحات پر مشتمل مختصر رائے چیف جسٹس نے تحریر کی جس کے مطابق صدر مملکت نے رائے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔
سینیٹ الیکشن آئین کے تحت ہوتے ہیں، یہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ شفاف اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد کرائے۔
مختصر رائے میں کہا گیا ہے کہ یہ بھی الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ انتخابی عمل میں کرپٹ پریکٹس کی روک تھام کے لیے اقدامات کرے۔
”سپریم کورٹ ورکرز پارٹی کیس میں قرار دے چکی ہے کہ شفاف انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے،الیکشن کمیشن آئینی ذمہ داریاں پوری کرے۔“
عدالت کے مطابق پارلیمنٹ کو بھی آئین نے یہ اختیار دیا ہے کہ وہ کرپٹ پریکٹس اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کو روکے، پارلیمنٹ ایسی کوئی قانون سازی نہیں کر سکتی جس سے الیکشن کمیشن کو حاصل اختیارات میں کمی ہو۔
رائے میں کہا گیا ہے کہ وفاق پاکستان اور تمام صوبے آئینی طور پر پابند ہیں کہ وہ الیکشن کمیشن کی معاونت کرے، جہاں تک خفیہ بیلٹنگ کا تعلق ہے سپریم کورٹ اپنے فیصلے میں جواب دے چکی ہے۔
1967 کے عدالتی فیصلے میں سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ووٹ کی رازداری دائمی نہیں ہے، الیکشن کمیشن تمام دستیاب وسائل اور ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے سینیٹ الیکشن دیانتداری اور شفافیت کے ساتھ کرائے، الیکشن کمیشن کرپٹ پریکٹسز سے انتخابات کو محفوظ بنائے۔
جسٹس یحییٰ آفریدی کی مختصر اختلافی رائے میں کہا گیا ہے کہ اختلافی نوٹ کی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی، صدر مملکت کی جانب سے ریفرنس میں اٹھایا گیا سوال قانونی نہیں ہے، صدارتی ریفرنس بغیر جواب دیئے واپس کیا جاتا ہے۔
تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے چاروں صوبائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی میں سینیٹرز کے انتخاب کے لیے ہونے والی پولنگ اوپن بیلٹ سے کرانا چاہتی ہے جبکہ اپوزیشن کی بڑی جماعتیں اس کی مخالفت کر رہی ہیں۔
سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے چار جنوری سے 24 فروری تک اس ریفرنس پر 17 سماعتیں کیں اور اٹارنی جنرل کا مؤقف تفصیل سے سنا جبکہ الیکشن کمیشن اور اپوزیشن جماعتوں کے دلائل بھی سنے۔

