متفرق خبریں

سندھ اسمبلی میں پرتشدد واقعات کی تاریخ کیا ہے؟

مارچ 3, 2021

سندھ اسمبلی میں پرتشدد واقعات کی تاریخ کیا ہے؟

رپورٹ: عبدالجبارناصر

سندھ اسمبلی میں کی رپورٹنگ کرتے ہوئے ہمیں دو ہائیاں ہونے والی ہیں اور دودہائیوں میں چار شرمناک واقعات پیش آئے ، جس میں ارکان اسمبلی کو ہی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ پہلا شرمناک واقعہ 2003ء میں اس وقت پیش آیا ، جب مشرف کی آمریت میں سندھ میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیوایم )کا عروج تھا اور کراچی سے اس کی مخالف جماعت مہاجر قومی موومنٹ حقیقی کا ایک رکن قومی اسمبلی اور ایک رکن سندھ اسمبلی منتخب ہواتھا۔

ایم کیوایم کی کوشش تھی کہ ایم کیوایم حقیقی کے محمد یونس خان اپنی رکنیت کا حلف نہ اٹھا سکے اور ان کی ہر صورت گرفتاری یقینی بنائی جائے ۔ ہر اجلاس کے دوران بڑی تعدادمیں سیکیورٹی اہلکار محمد یونس خان کی تلاش میں ہوتھے ۔غالباً 27 جنوری 2003ء کے اجلاس میں ایم کیو ایم حقیقی کے واحد رکن اسمبلی یونس خان برقعہ پہن کر اسمبلی اپوزیشن ارکان کے ساتھ حلف کے لئے اسمبلی کے ایوان تک پہنچنے میں کامیاب رہے اور ایم کیوایم والے پریشان ہوئے ۔سید مظفر حسین شاہ صاحب اسپیکر تھے اور یونس خان تقریباً 2 گھنٹے تک صرف ایک منٹ بات یعنی آفاق احمد کی صحت کی دعا کے لئے ترستا رہا ،مگر ایم کیوایم کے دبائو وجہ سے اسپیکر نے ٹائم نہیں دیا۔ غالباً اجلاس دو پہر 2 بجے کے قریب ملتوی ہوا، مگر اسمبلی کے اطراف بڑی تعداد تھی اسمبلی کے تمام داخلی اور خارجی راستے سیل کئے گئے تھے ۔ غالباً رات 8 بجے تک ایوان کے اندر تنہا رہے ، ایوان کی لائٹس بند کردی گئی اور سید قائم علی شاہ صاحب اور نثار احمد کھوڑو صاحب کی قیادت میں اپوزیشن ارکان بھی ڈٹے رہے کہ گرفتاری نہیں دینی ہے ۔ اپوزیشن کے ارکان اسمبلی اور صحافی سب اسمبلی کی حدود میں محصور ہوگئے تھے، کئی بار اسپیکر کی توجہ دلائی گئی ،مگر ٹس سے مس نہیں ہوا ۔

غالباً رات 8 بجے کے قریب اپوزیشن ارکان نے یونس خان کو اپنی بس(ان دنوں فاروڈ بلاک یا اغواہ کے خوف سے اپوزیشن ارکان ایک ساتھ بس میں آتے تھے) کے اندر سیٹ کے نیچے چھپایا اور پولیس نے ایک سے زائد بس کو چیک کیا مگر تلاش نہ کرسکی اور آخری بار کسی کی مخبری پر تلاش کیاگیا اور پولیس کے ساتھ ساتھ ایم کیوایم کے کارکنوں نے بھی بہت بھری طرح تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے گرفتار کیا۔

جون 2006ء میں ایک غلط حرکت کی وجہ سے ایک حکومتی رکن کی پٹائی ہوئی اور اس کیس میں غالباً موجودہ وزیر پارلیمانی امور مکیش کمار چاولہ سمیت ارکان معطل ہوئے تھے ۔ سابق وزیرِ اعلی ارباب غلام رحیم کی تضحیک کا ایک واقعہ 2008ء میں پیش آیا ، اس واقعہ میں پیپلزپارٹی کے لوگ ملوث تھے ۔ اب 2 مارچ 2021ء کے واقعہ نے اس کی نہ صرف یاد تازہ کردی بلکہ ماضی سے بدتر رہا۔ تازہ واقعہ سینیٹ الیکشن میں ووٹ بچانے اور ووٹ چھین نے کی کوشش میں پیش آیا۔ اسپیکر آغا سراج درانی نے بھی انکوائری کی ہدایت ہے ۔ اگر اس بار کارروائی منصفانہ ہوئی تو دونوں جانب کے کئی سنیئر ارکان سمیت ایک درجن سے زائد ارکان کے خلاف ایکشن ہوسکتاہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے