متروکہ وقف املاک کی زمین ڈی ایچ اے کے قبضے میں ہے: عدالت میں بیان
پاکستان کی سپریم کورٹ میں متروکہ وقف املاک لیز پر دینے کے کیس کی سماعت کے دوران وقف املاک بورڈ کے چیئرمین نے عدالت میں بیان دیا ہے کہ کئی سو ارب کی اراضی ڈی ایچ اے لاہور کے زیر قبضہ ہے۔
بدھ کو متروکہ وقف املاک بورڈ کے چیئرمین نے عدالت کو بتایا کہ لاہور کی رنگ روڈ اور اورنج لائن ٹرین میں بھی ہماری زمین آئی ہے۔ کئی سرکاری دفاتر بھی بورڈ کی زمین پر قبضہ کر کے بنائے گئے۔
رپورٹ: جہانزیب عباسی
دوران سماعت متروکہ وقف املاک کی ہزاروں ایکڑ اراضی کے ریکارڈ کے غائب ہونے کے انکشاف پر چیف جسٹس گلزار احمد نے سخت برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ چیئرمین صاحب عدالت کے ساتھ کھیل نہ کھیلیں، عدالتی حکم کے باوجود زمینیں لیز پر دی جا رہی ہیں، آپ کو یہاں سے ہی جیل بھجوا دیں گے۔
سپریم کورٹ نے متروکہ وقف بورڈ کی املاک کی فروخت غیرقانونی قرار دیتے ہوئے تمام اراضی کا فرانزک آڈٹ کرانے کا حکم دیا۔
عدالت نے آڈیٹر جنرل کو تین ماہ میں فرانزک آڈٹ کرکے رپورٹ پیش کرنے کے لیے کہا اور چیئرمین بورڈ کو املاک کی ادارے کو واپسی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔
سپریم کورٹ نے خلاف قانون سرگرمیوں میں ملوث بورڈ کے افسران کے خلاف کارروائی کا حکم بھی دیا۔
دوران سماعت جب متروکہ وقف کی ہزاروں ایکڑ اراضی کا ریکارڈ غائب ہونے کا انکشاف ہوا تو بورڈ کے چیئرمین نے بتایا کہ ماضی میں غیرقانونی کام زیادہ ہونے پر دفاتر کو آگ لگا دی جاتی تھی، 39 ہزار املاک میں سے تمام کا ریکارڈ دستیاب نہیں۔
چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ نے عدالت کو بتایا کہ پورا محکمہ ہی سیاسی بھرتیوں سے بھرا پڑا ہے۔
چیف جسٹس نے پوچھا کہ سیاسی طور پر بھرتی افراد کو نکالتے کیوں نہیں؟ تو چیئرمین نے جواب دیا کہ نئی بھرتیوں پر پابندی ہے، سب کو نکال دیں تو محکمہ کیسے چلے گا؟
چیف جسٹس نے کہا کہ چیئرمین صاحب عدالت کیساتھ کھیل نہ کھیلیں، سب کچھ آپ کی ناک کے نیچے ہو رہا ہے، عدالتی حکم کے باوجود زمینیں لیز پر دی جا رہی ہیں، تمام زمینیں تو فروخت ہوچکی، محکمہ بند ہی کر دیتے ہیں۔
چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا اتنا بڑا محکمہ صرف املاک کا کرایہ اکٹھے کرنے کے لیے ہے؟
چیئرمین کے مطابق ادارے کا منافع ایک ارب سے بڑھ کر پانچ ارب ہوُچکا ہے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ لاہور بادامی باغ میں چار کنال اراضی کا کرایہ تین ہزار ہے، بادامی باغ میں دس فٹ جگہ کا کرایہ بھی کئی ہزار ہے، جس پر چیئرمین نے بتایا کہ کئی سو ارب کی اراضی ڈی ایچ اے لاہور کے زیر قبضہ ہے، رنگ روڈ اور اورنج لائن میں بھی ہماری زمین آئی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ تمام عبادت گاہیں متعلقہ مذاہب کو بھجواتے ہوئے ادارہ ختم کر دیتے ہیں۔
عدالت نے پیشرفت رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

