برطرف جسٹس شوکت صدیقی کے مقدمے میں ججز عدالت چھوڑ کر کیوں گئے؟
پاکستان کی سپریم کورٹ کے پانچ رکنی عدالتی بینچ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے برطرف جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت ادھوری چھوڑ دی۔
منگل کو شوکت صدیقی کے وکیل حامد خان کے دلائل جاری تھے جب بینچ کے سربراہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ برطرف جج کے آئی ایس آئی کے لوگوں سے رابطے تھے۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ برطرف جج نے خود تسلیم کیا کہ ان کی خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر جنرل سے ملاقاتیں کیں۔
ان ریمارکس پر شوکت صدیقی نے وضاحت کرنا چاہی تو ججز عدالت اٹھ کر چلے گئے۔
شوکت عزیز صدیقی روسٹرم پر آئے اور کہا کہ انہوں نے تقریر پریشر کو کم کرنے کے لیے کی۔
"بدقسمتی سے میں دسمبر 2015 سے پریشر میں ہوں، سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور آصف سعید کھوسہ تو مجھے نکالنا چاہتے تھے۔”
بینچ کے سربراہ نے کہا کہ ہم آپ کی تقریر نہیں سننا چاہتے، آپ نے تو نام گنوانے شروع کر دیے۔
شوکت صدیقی نے کہا کہ حلفا کہتا ہوں کہ عدلیہ کچھ قوتوں کے پریشر میں ہے۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ کی ایک تقریر ہی کافی تھی۔
شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ سر پلیز میری بات سن لیں۔ ججز نے شوکت عزیز صدیقی کی بات سننے سے انکار کیا اور بینچ سے اٹھ کر چلے گئے۔

