پاکستان

سندھ :اپوزیشن لیڈر کے لئے خطرے کی گھنٹی !

جون 26, 2021

سندھ :اپوزیشن لیڈر کے لئے خطرے کی گھنٹی !

تجزیاتی رپورٹ: عبدالجبارناصر

سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں جہاں ایک بھی کٹوتی کی تحریک جمع نہ ہونے اور تاریخ میں پہلی بار آئندہ مالی سال 2021-22ءکا بجٹ قائد ایوان ، قائد حزب اختلاف ، اہم وزراء ، پارلیمانی لیڈرز کی تقاریر اور وزیر خزانہ کی جانب سے بجٹ پر بحث سمیٹے بغیر چند لمحوں میں منظوری کا ایک ریکارڈ بنا ہے ، وہیں اپوزیشن جماعتوں میں تفریق بھی واضح نظر آئی ہے اور یہ تفریق اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ کے لئے خطرے کی گھنٹی بھی ہے ۔

سندھ اسمبلی میں 15 جون کو سندھ کا بجٹ پیش ہوا اور اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی )اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیوایم)پاکستان کے ارکان احتجاج کرتے رہے ، مگر ان کی اتحادی جماعت گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے )کے کئی ارکان عملاً لا تعلق رہے ۔18 جون سے بجٹ پر عام بح شروع ہوئی ، جس میں پی ٹی آئی اور جی ڈی اے کے ارکان نے بھرپور حصہ لیا ، مگر پہلے تین دن ایم کیوایم کے ارکان نے نہ صرف بجٹ پر بحث میں حصہ نہیں لیا ، بلکہ غیر اعلانیہ اور احتجاج کے طور پر حاضری کے بعد بائیکاٹ کیا۔

چوتھے روز نہ صرف ایم کیوایم کے پارلیمانی لیڈر کنورنوید جمیل نے بجٹ پر بحث میں حصہ لیا ، بلکہ ایم کیوایم نے ایوان کے اندر احتجاج بھی شروع کیا، جس میں ایم کیوایم کے ارکان پلے کارڈ ز اٹھاکر اسپیکر کی ڈائس کے سامنے جمع ہوتے ، پھر دھرنہ دیتے اور نعرے بازی بھی جاری رہتی اور یہ سلسلہ دو دن مسلسل جاری رہا ، جس کے باعث اجلاس میں تقاریر کا سلسلہ شدید متاثر ہوا۔

اس عمل کے دوران دوران یہ محسوس کیا گیا کہ نہ صرف اپوزیشن جماعتوں میں رابطوں کا فقدان ہے ، بلکہ تینوں بڑی اپوزیشن جماعتوں کی حکمت عملی بھی الگ الگ ہے ۔ اس کا فائدہ حکومتی جماعت پیپلزپارٹی نے اٹھایا اور قائد حزب اختلاف حلیم عادل شیخ، تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر بلال غفار اور جی ڈی اے کے پارلیمانی لیڈر بیریسٹر حسنین مرزا کو بجٹ پر تقریر سے محروم کردیا ۔ حکمت عملی کے طور پر پیپلزپارٹی نے قائد ایوان اور کئی وزراء کی تقاریر کی قربانی بھی دی ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی جماعت کو اندازہ تھاکہ حلیم عادل شیخ قائد حزب اختلاف کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلی بار بجٹ بحث میں بطور قائد حزب اختلاف طویل اور سخت تقریر کریں گے اور ذرائع کا کہناہے کہ حلیم عادل شیخ نے 3 سے 4 گھنٹے کی تقریر کی تیاری کی ہوئی تھی ،مگر اپوزیشن کی تقسیم ، کمزور اور منتشر حکمت عملی اور رابطے کے فقدان نے حکومت کو موقع فراہم کردیا کہ وہ حلیم عادل شیخ کو تقریر سے محروم رکھے ، کیونکہ اسپیکر نے جواز اپوزیشن کا احتجاج بنایا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپیکر آغاسراج درانی نے ملاقات میں اپوزیشن کو آگاہ کیا تھا کہ اگر احتجاج کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو وہ اپنا اختیار استعمال کریں گے اور انہوں نے جمعہ کو ایسا ہی کیا۔ سندھ اسمبلی کے بجٹ سیشن کے 11 دنوں میں اپوزیشن واضح طور پر تقسیم نظر آئی اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 22 سال میں پہلی بار اپوزیشن نے کٹوتی کی ایک بھی تحریک مقررہ وقت تک جمع نہیں کرائی ۔

بجٹ منظوری کے بعد اپوزیشن رہنمائوں کی گفتگو سے بھی یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں اور یہی شک آگے جاکر راستے جدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے اور یہ شک اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ کے لئے خطرے کی گھنٹی بھی ہے ۔ مبصرین کا کہناہے کہ موجودہ صورتحال میں حلیم عادل شیخ کا بطور قائد حزب اختلاف بجٹ تقریر سے محروم اور کٹوتی کی تحاریک جمع نہ ہونا اپوزیشن لیڈر کے لئے سوالیہ نشان ہوگا اور بعید نہیں کہ بعض اپوزیشن جماعتیں ملکر کوئی نئی حکمت عملی طے کرلیں ۔ سندھ اسمبلی کے 168 رکنی ایوان میں اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کی تعداد 69 ہے ، جن میں پی ٹی آئی کے 30(ان میں سے2 ارکان منحرف ہوچکے ہیں)، ایم کیوایم پاکستان کے 21، جی ڈی اے کے14، کالعدم ٹی ایل پی کے 3 اور جماعت اسلامی کا ایک رکن ہے۔

بجٹ پر بحث کے دوران مجموعی طور پر 65 کے قریب ارکان نے بحث میں حصہ لیا اور چند ارکان کی تقاریر بہترین اور ٹودی پوائنٹ تھیں ، جن میں تحریک انصاف کی رابعہ اظفر نظامانی ، ارسلان تاج ،جمال صدیقی ، جی ڈی اے کے شہر یار خان مہر اور دیگر چند ارکان شامل ہیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے