پاکستان پاکستان24 متفرق خبریں

نور مقدم قتل کیس: ملزم ظاہر جعفر نے عدالت میں کیا کہا؟

جولائی 24, 2021

نور مقدم قتل کیس: ملزم ظاہر جعفر نے عدالت میں کیا کہا؟

اسلام آباد میں سابق سفارتکار کی بیٹی نور مقدم قتل کیس میں ملزم ظاہر ذاکر کو سول جج جوڈیشل مجسٹریٹ صہیب بلال رانجھا کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں ملزم کو مزید دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دیا گیا۔

سنیچر کو پولیس نے ملزم کو دو دن کے جسمانی رینانڈ مکمل ہونے پر عدالت پیش کیا۔

عدالت میں پولیس تفتیشی کی جانب سے مزید ریمانڈ کی استدعا پر ملزم نے کہا کہ ان سےآلہ قتل برآمد ہو چکا ہے اس مزید جسمانی ریمانڈ نہ دیا جائے۔

ملزم کے عدالت میں بیان پر جج نے پوچھا کہ مقدمہ کا تفتیشی آفیسر کون ہے؟

تفتیشی آفیسر نے بتایا کہ تین دن میں ہم نے آلہ قتل، پسٹل نائن ایم این اور آہنی مکہ، سگریٹ، بلڈ سیمپل لیا ہے۔

سرکاری وکیل ساجد چیمہ نے بتایا کہ مقتولہ کے کپڑے لیے ہیں، ملزم اور مقتولہ کا موبائل برآمد کرنا باقی ہے، مقدمے میں ملزم سے تفتیش باقی ہے، زیادہ سے زیادہ ریمانڈ درکار ہے۔
ایڈووکیٹ شاہ خاور نے کہا کہ میں مدعی کی طرف سے وکیل ہوں، موبائل فون کی برآمدگی بہت ضروری ہے۔

ملزم نے عدالت کے باہر انگریزی زبان میں رپورٹرز کے سوالوں کے جواب بھی دیے مگر کسی کو واضح سمجھ نہ آئی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے