نور مقدم قتل کیس: کیا ملزم کچھ کہنا چاہتا ہے؟ عدالت
اسلام آباد میں قتل کی گئی سابق سفارتکار کی بیٹی نور مقدم کے کیس میں ملزم ظاہر جعفر کو عدالت میں پیش کیا گیا۔
پیر جو ملزم کو ماڈل ٹرائل مجسٹریٹ شائستہ کنڈی کی عدالت دو روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر لایا گیا۔
پولیس ملزم کا مجموعی طور پر بارہ روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر چکی ہے۔ ملزم کی عدالت پیشی کے موقع پر سیکورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے۔
تفتیشی آفیسر نے بتایا کہ ملزم سے تفتیش مکمل ہو چکی ہے۔
جج نے استفسار کیا کہ ملزم ظاہرجعفر کہاں ہے، کیا آپ عدالت میں کچھ کہنا چاہتے ہیں؟
ملزم نے جواب دیا کہ میرے وکیل بات کریں گے۔
سرکاری وکیل نے بتایا کہ ملزم کی حد تک تفتیش مکمل ہو چکی ہے۔
جج نے کہا کہ ملزم کی تک کچھ نہیں ہوتا، تفتیش مکمل ہوتی ہے، پولیس والے تو بادشاہ ہیں، وہ تو ضمنی چالان بھی لاتے رہتے ہیں۔
ملزم کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھجوا دیا گیا۔ عدالت نے ملزم کو 16اگست کو دوبارہ عدالت پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

