پاک پیک کی جانب سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت، تحقیقات کا مطالبہ
واشنگٹن: پاکستانی امریکن پولیٹیکل ایکشن کمیٹی (PAKPAC) نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی موجودہ صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ایک بار پھر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، جمہوری اقدار کی کمزوری اور بنیادی آزادیوں کی مسلسل پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے۔
تنظیم نے اپنے بیان میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں شہریوں کے خلاف جاری تشدد اور پُرامن سیاسی اظہارِ رائے کو دبانے کی کوششوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مظاہرین کے خلاف مبینہ طور پر مہلک طاقت کا استعمال، بڑے پیمانے پر گرفتاریاں، مواصلاتی بندش اور آزادیٔ اظہار و پُرامن اجتماع پر عائد پابندیاں انتہائی تشویشناک ہیں۔
پاک پیک کے مطابق مضبوط جمہوریتیں شہریوں کے آئینی حقوق کے تحفظ سے مستحکم ہوتی ہیں، نہ کہ اختلافی آوازوں کو دبانے سے۔
تنظیم نے حکومتِ پاکستان اور پاک فوج سے مطالبہ کیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں، پُرامن احتجاج اور آزادیٔ اظہار کے آئینی حقوق کا احترام کریں، جمہوری اصولوں کی پاسداری کریں اور تمام شہریوں کی سلامتی کو یقینی بنائیں۔
بیان میں امریکی انتظامیہ، امریکی کانگریس اور عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ مبینہ ہلاکتوں اور طاقت کے مبینہ حد سے زیادہ استعمال کی آزاد، غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کی حمایت کریں، جبکہ انٹرنیٹ کی بلا رکاوٹ بحالی، میڈیا کی آزادی اور انسانی امداد تک رسائی کو یقینی بنانے کے لیے کردار ادا کریں۔
PAKPAC نے کہا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے عوام انصاف، احتساب اور اپنے بنیادی حقوق کے تحفظ کے مستحق ہیں، جبکہ عالمی برادری کو جمہوری تنزلی اور مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموش نہیں رہنا چاہیے۔

