حکومتی ترجمان خیبر پختونخوا میں جے یو آئی کی جیت پر مایوس
پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے صوبہ خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کی کامیابی کو تشدد کے حامی لوگوں کی جیت قرار دے کر مایوسی ظاہر کی ہے جبکہ جواب میں حزب اختلاف کی پارٹی نے حکومتی ترجمان کو شدت پسند کہا ہے۔
فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ’متشدد پالیسیوں کے حامی لوگوں کو اقتدار ملنا حوصلہ کن بات نہیں ہے۔‘
منگل کو اسلام آباد میں پریس بریفنگ دیتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ’خیبر پختونخوا میں جے یو آئی کے آنے سے مایوسی ہوئی۔ اس طرح کی جماعتیں اس بات کی علامت ہیں کہ پاکستان میں سب ٹھیک نہیں ہے۔‘
حکومتی ترجمان کے مطابق ’اگر ایسے لوگوں کو اقتدار ملتا ہے جو خواتین کے حقوق کے خلاف ہیں، آزادیوں کے خلاف ہیں اور جو مذہبی طور پر متشدد پالیسیوں کے حامی ہیں، ایسے لوگوں کو اقتدار ملنا حوصلہ کن بات نہیں ہے۔ مولانا فصل الرحمان کا اقتدار میں آنا بدقسمتی ہے۔‘
وزیراطلاعات کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے جے یو آئی (ف) کے ترجمان حافظ حمد اللہ نے کہا کہ ’آئین بنانے والی پارٹی جمعیت کو انتہا پسند کہنے والے خود انتہا پسند اور شدت پسند ہیں۔‘
حافظ حمد اللہ کا کہنا تھا کہ ’خیبرپختونخوا میں جس وقت جے یو آئی کی حکومت تھی تب فواد چوہدری پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ فواد چوہدری کی پیدائش سے قبل مفتی محمود جیسی جمہوری شخصیت تھیں جنہوں نے پاکستان کو 1973 کامتفقہ آئین دیا۔‘
’جس آئین پر مفتی محمود کے دستخط ہے اس آئین کے تحت آپ وزیر اور عمران خان وزیراعظم بن کے بیٹھے ہیں ۔‘
حافظ حمد اللہ نے کہا کہ ’مولانا فضل الرحمان آئین، پارلیمنٹ اور جمہوریت کی جنگ لڑتے لڑتے تین خودکش حملوں کا نشانہ بنے۔ 2014 دھرنے کے دوران پارلیمنٹ پر حملہ، پی ٹی وی پر حملہ، پولیس آفیسر پرحملہ اور سول نافرمانی کا اعلان، کیا انتہا پسندی، شدت پسندی، دہشت گردی اور ریاست سے بغاوت نہیں ہے؟‘
انہوں نے کہا کہ پختونخوا میں شرمناک اور عبرتناک شکست کو چھپانے کےلیے جمعیت پر تنقید کی جا رہی ہے مگر ایسا کرنے سے شکست کی ذلت زائل نہیں ہوگی۔

