راولپنڈی میں امریکہ سے آئی خاتون اغوا، سابق شوہر گرفتار
راولپنڈی کے نواحی علاقے میں ڈیڑھ ماہ قبل اغوا کی گئی پاکستانی نژاد امریکی شہری وجیہہ سواتی کو بازیاب کرنے میں پولیس ناکام ہے جبکہ امریکی سفارتخانے کے اعلیٰ حکام کی جانب سے پولیس افسران سے ملاقات کے بعد اغوا کے الزام میں پولیس نے خاتون کے سابق شوہر کو گرفتار کر لیا ہے۔
بدھ کو پنجاب پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ ’راولپنڈی پولیس نے وجیہہ سواتی کے سابقہ شوہر رضوان حبیب کو گرفتار کر لیا ہے۔‘
واضح رہے کہ اغوا کا مقدمہ مغویہ کے بیٹے کی مدعیت میں پاور آف اٹارنی کے ذریعے تھانہ مورگاہ میں درج کیا گیا تھا۔
خاتون کے شوہر رضوان حبیب کو ریمانڈ کے لیے عدالت میں پیش کیا گیا۔
مقدمے میں قمر علی شاہ نامی ایک ملزم نے عبوری ضمانت حاصل کی ہے جبکہ جمعے کو پولیس ریکارڈ عدالت پیش کرے گی۔
وجیہہ سواتی کے اغوا کا مقدمہ 30 اکتوبر کو تھانہ مورگاہ میں ان کے بیٹے کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔
ایف آئی آر کے مطابق ’وجیہہ سواتی 16 اکتوبر 2021 کو برطانیہ سے اپنے بھانجے کے ہمراہ اپنے سابقہ شوہر رضوان حبیب سے کچھ معاملات طے کرنے اور پراپرٹی کی سیٹلمنٹ کی غرض سے پاکستان آئیں۔ انہیں 22 اکتوبر کو واپس برطانیہ لوٹنا تھا۔‘
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ’رضوان حبیب وجیہہ سواتی اور ان کے بھانجے کو ڈی ایچ اے راولپنڈی کے ایک گھر لے کر گئے اور انہیں بند کر دیا۔ جب بھانجے کی آنکھ کھلی تو وجیہہ سواتی اور ان کے سابق شوہر وہاں موجود نہیں تھے۔‘
’جبکہ ان کے بھانجے کو بھی ملازموں نے گھر میں لاک کر رکھا تھا لیکن وہ اپنی جان بچاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔‘

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ‘وجیہہ سواتی کے پاس ان کے بھانجے کا پاسپورٹ اور قومی شناختی کارڈ بھی تھا تاہم وہ ایمرجنسی سفری دستاویزات بنا کر 22 اکتوبر کو پاکستان چھوڑ کر برطانیہ لوٹنے میں کامیاب ہوگئے۔‘
بیٹے کی مدعیت میں درج کیے گئے مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ’ان کی والدہ کو اغوا کرنے میں ان کے سابق شوہر ملوث ہیں جبکہ انہیں رضوان حبیب کی جانب سے قتل کی دھمکیاں بھی موصول ہوئی ہیں۔‘
وجیہہ سواتی اپنے تین بچوں کے ہمراہ امریکہ میں رہائش پذیر تھیں جبکہ ان کے شوہر کا انتقال ہو چکا ہے۔

