پاکستان

نیشنل سکیورٹی کمیٹی میں پاکستان کی قومی سلامتی پالیسی منظور

دسمبر 27, 2021

نیشنل سکیورٹی کمیٹی میں پاکستان کی قومی سلامتی پالیسی منظور

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں ہوئے نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں ملک کی پہلی قومی سلامتی پالیسی کی منظوری دے دی گئی۔

وزیر اعظم کے دفتر سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سوموار کو وزیراعظم کی زیرصدارت نیشنل سکیورٹی کمیٹی کا 36 واں اجلاس ہوا۔
اجلاس میں وفاقی وزرا برائے اطلاعات و نشریات، داخلہ، خزانہ، انسانی حقوق، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، تمام سروسز چیفس، نیشنل سکیورٹی ایڈوائرز اور عسکری حکام شریک ہوئے۔

قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے اجلاس میں پاکستان کی پہلی نیشنل سکیورٹی پالیسی 2022-2026 پیش کی۔

مشیر نے پالیسی کے بارے میں اجلاس کے شرکا کو بریفنگ دی۔
 
انہوں نے بتایا کہ پاکستان ایک جامع نیشنل فریم ورک کی طرف بڑھ رہا ہے جس کا مقصد پاکستانیوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے این ایس اے نے معاشی سکیورٹی کو سامنے رکھا۔

ایک مضبوط معیشت ہی اضافی ذرائع پیدا کرے گی جو فوجی اور انسانی سکیورٹی کو بہتر بنانے میں مدد کرے گی۔

اجلاس کے شرکا کو بتایا گیا کہ نیشنل سکیورٹی پالیسی سات برسوں میں تیار کی گئی ہے اور اس کی تیاری میں تمام صوبوں کی حکومتوں، نجی شعبوں اور ماہرین تعلیم سے مشاورت کی گئی ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ پالیسی پر عملدرآمد کے لیے ایک تفصیلی فریم ورک تیار کیا گیا ہے جس کے تحت نیشنل سکیورٹی ڈویژن متعلقہ وزارتوں اور محکموں کے ساتھ مل کر اس پر پیش رفت کا جائزہ لیتی رہے گی۔

اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے زور دیا کہ پاکستان کی سکیورٹی عوام کی سکیورٹی کے ساتھ منسلک ہے اور اس اعتماد کے ساتھ منسلک ہے کہ پاکستان کسی بھی داخلی یا خارجی خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

ادھر وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے پیر کو قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’نیشنل سکیورٹی کونسل کے اجلاس نے آج ملک کی پہلی نیشنل سکیورٹی پالیسی کی منظوری دی ہے۔‘

فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ’پاکستان کی نیشنل سکیورٹی پالیسی کل کابینہ کے اجلاس میں پیش کی جائے گی۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے