پاکستان

سپریم کورٹ کی معلومات دی جائیں یا نہیں؟ ہائیکورٹ میں فیصلہ محفوظ

دسمبر 30, 2021

سپریم کورٹ کی معلومات دی جائیں یا نہیں؟ ہائیکورٹ میں فیصلہ محفوظ

عمر برنی، صحافی. اسلام آباد
اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزارت قانون اور رجسٹرار سپریم کورٹ کی جانب سے انفارمیشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ انفارمیشن کمیشن نے ہائیکورٹ کے بارے میں ایک آرڈر جاری کیا جسے چیلنج نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس عدالت نے رجسٹرار کو ہدایت کی کہ معلومات فراہم کی جائیں۔ مشکل یہ ہے کہ سپریم کورٹ اس عدالت کے پاس آئی ہے کہ معلومات نہیں دینا چاہتے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے وزارت قانون اور رجسٹرار سپریم کورٹ کی جانب سے انفارمیشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف کیس کی سماعت کی۔

اٹارنی جنرل خالد جاوید خان اور درخواست گزار شہری عدالت میں پیش ہوئے۔

عدالت نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ اس کیس میں وزارت قانون کیسے فریق ہو سکتی ہے؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ وزارت قانون تمام اداروں کے نوٹیفکیشن جاری کرتی ہے، اسی وجہ وزارت قانون بھی فریق بن سکتی ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا اس کیس میں فریق بننے کے لیے وزارت قانون نے سپریم کورٹ سے اجازت مانگی ہے؟

اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ وزارت قانون نے اس کیس میں فریق بننے کے لیے رجسٹرار سپریم کورٹ سے اجازت لی ہے۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وفاق کے نمائندے کے حثیت سے وہ رجسٹرار سے نہیں پوچھ سکتا کہ کیا یہ انہوں نے ذاتی اجازت دی ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اس کیس میں آپ رٹ نہیں دائر کرسکتے، کیونکہ آپ متاثرہ فریق نہیں ہیں۔ جب تک آپ عدالت کو مطمئن نہیں کرتے آپ کی درخواست قابل سماعت نہیں ہے۔ جس سب ایکٹ کی آپ بات کررہے ہیں تو کیا یہ عدالت آئندہ کے لئے واضع کردے کہ رٹ کے لیے متاثر ہونا ضروری نہیں؟ پھر آپ سپریم کورٹ اور رجسٹرار سپریم کورٹ کے درمیان ایک لائن کھینچ لیں۔ اس عدالت میں بہت ساری غیر قانونی بھرتیاں ہوئی ہیں اور اس ہم نے انکوائری شروع کی ہے۔ ساری بھرتیاں تو رجسٹرار آفس کرتا ہے تو زمہ دار کون ہوگا ہائی کورٹ یا رجسٹرار آفس ؟ پہلے یہ تو طے کرلیں کہ رجسٹرار متاثر ہوسکتا ہے سپریم کورٹ نہیں۔ کوئی بھی سٹیٹ انسٹی ٹیوشن متاثرہ نہیں ہوسکتے۔ درخواست گزار نے سپریم کورٹ سے متعلق نہیں رجسٹرار آفس کے بارے میں معلومات مانگی ہے۔

اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا کہ اگر درخواست گزار نے رجسٹرار آفس کے بارے میں معلومات مانگی ہے تو کیس یہی ختم ہوتا ہے۔ درخواست گزار یہ معلومات مانگتے ہیں جو سپریم کورٹ سے متعلق ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ درخواست گزار نے چیف جسٹس یا دیگر ججز سے متعلق معلومات تو نہیں مانگیں؟ درخواست گزار کی معلومات ایڈمنسٹریٹشن آفس سے متعلق ہے جوڈیشری سے متعلق نہیں۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کو آرٹیکل 19 اے پڑھنے کی ہدایت کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کون سی عدالتیں ہیں جو فیڈرل لاء کے تحت بنی ہیں؟

اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا کہ انسداد دہشتگری عدالت، بینکنگ کورٹ سمیت تقریباً 40 عدالتیں فیڈرل لاء کے تحت بنی ہیں۔

عدالت نے استفسار کیا کہ اگر درخواست خارج ہوتی ہے تو درخواست گزار کہاں جائے گا؟

اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا کہ درخواست گزار سپریم کورٹ ہی جائے گا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ درخواست گزار سپریم کورٹ کیسے جاسکتا ہے، سپریم کورٹ تو اس کیس میں فریق ہے؟ اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا کہ سپریم کورٹ کچھ چھپانے کی کوشش نہیں کررہی، اور نہ ہی کچھ چھپانے کو ہے۔ پاکستان میں پانچ ہائی کورٹس ہیں اور ہر ایک کی الگ الگ رائے ہیں۔ ہم اس عدالت میں ترمیم کرنے کے لیے آئے ہیں۔ عدالت یہ وضع کرے کہ معلومات دینی چاہیے یا نہیں۔

دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ کیا کوئی آرمڈ فورسز کے بارے معلومات لے سکتا ہے؟ آرمڈ فورسز ادارے آئینی ادارہ ہے یا کسی قانون کے تحت بنائے گئے۔

اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ آرمڈ فورسز کے ادارے قانون ہے تحت بنے ہیں۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ کل کو اگر پارلیمنٹ اس ہائی کورٹ کو لاء سے ختم کرے تو ججز کہاں جائیں گے؟ اسی کمیشن نے اس کورٹ کے بارے میں ایک آرڈر پاس کیا جسے چیلنج نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس عدالت نے رجسٹرار کو کہا کہ معلومات فراہم کی جائیں۔ مشکل یہ ہے کہ آپ اس عدالت کے پاس آئے ہیں کہ معلومات نہیں دینا چاہتے۔ آپ سپریم کورٹ رجسٹرار سے معلومات لیکر درخواست گزار کو دے دیں۔ عدالت نے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ آپ کیوں جاننا چاہتے ہیں؟

درخواست گزار نے جواب دیا کہ کسی بھی جمہوری نظام میں شہری کو ہر قسم کی معلومات ہونی چاہیے۔ آرٹیکل 19 اے میں عوامی اہمیت کی بات ہے۔

عدالت نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ عدالتوں کے ایڈمنسٹریٹیو آفسز کس قانون کے تحت بنتے ہیں؟

اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ سپریم کورٹ رجسٹرار آفس رولز آف پروسیجر کے تحت بنتے ہیں۔

عدالت نے اٹارنی جنرل کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے