منی بجٹ پیش، قومی اسمبلی میں اپوزیشن کا شور شرابہ
عالمی مالیاتی فنڈ کی شرائط پر عمل کرتے ہوئے پاکستان میں تحریک انصاف کی وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں منی بجٹ پیش کر دیا۔
جمعرات کو اجلاس سے یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ شاید حکومت اپنے اراکین اور اتحادیوں کی مکمل حمایت حاصل کرنے میں مشکلات کا شکار ہوگی۔
قومی اسمبلی میں منی بجٹ پیش کیے جانے سے قبل وزیراعظم اپنی پارلیمانی پارٹی اور اتحادیوں کے اجلاس میں شریک ہوئے اور اس کے بعد صحافیوں سے مختصر گفتگو بھی کی۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کے آغاز میں اپوزیشن کی عددی اکثریت نظر نہ آئی اور اپوزیشن جماعتوں کی مرکزی قیادت بھی اجلاس سے غائب تھی۔
اپوزیشن لیڈر شہباز شریف، پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف زرداری اور ان کے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری کے علاوہ اپوزیشن کے مرکزی رہنماؤں شاہد خاقان عباسی اور ایاز صادق بھی اجلاس میں شریک نہ ہوئے۔
وزیر خزانہ شوکت ترین نے ضمنی بجٹ پیش کیا تو اپوزیشن نے خاص مزاحمت نہیں کی، لیکن جب حکومت نے سٹیٹ بینک کی خودمختاری کا بل پیش کیا تو اس پر نعرے بازی شروع ہوگئی تاہم سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے سٹیٹ بینک خودمختاری کا بل پارلیمانی کمیٹی کو غور کے لیے بھیج دیا۔
احتجاج کرنے والے اپوزیشن ارکان نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر منی بجٹ نامنظور اور حکومت کے خلاف نعرے درج تھے۔
اپوزیشن کے بعض اراکین نے حکومتی ارکان کی نشستوں کے سامنے جا کر آئی ایم ایف کے ایجنٹ کے نعرے لگائے۔
سپیکر نے اس موقع پر مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف کو بولنے کا موقع دیا تو انہوں نے منی بجٹ اور حکومت پر شدید تنقید کی۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان کی معاشی خودمختاری کا سودا کر رہی ہے اور سٹیٹ بینک کا کنٹرول آئی ایم ایف کو دیا جا رہا ہے جو کہ شرم ناک بات ہے، اس طرح قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالا جا رہا ہے۔

