الیکشن کمیشن اور نادرا آمنے سامنے
رپورٹ: عبدالجبارناصر
ملک میں ووٹر فہرست کے نظرثانی عمل میں ڈیٹا انٹری اپریٹرز اور الگ الگ ووٹرز فہرست ایشو پر الیکشن کمیشن آف پاکستان اور نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا)میں اختلافات پیدا ہوگئے ہیں اور دونوں اداروں الگ الگ ووٹرز فہرست تیار کر رہے ہیں ، نادرا نے مینول ووٹر فہرست ترتیب دینے کی زمہ داری الیکشن کمیشن آف پاکستان کی قرار دیتے ہوئے کمیشن کو ’’ ڈیٹا انٹری آپریٹر ز‘‘ کی سہولت فراہم کرنے سے انکار کر لیا ہے اور کہاہے کہ ہم اپنی الگ ڈیجیٹل ووٹرز فہرست تیار کر رہے ہیں، دونوں قومی اداروں کے اختلاف سے ’’ووٹرز فہرست نظرثانی عمل ‘‘ کی بروقت تکمیل میں تاخیر اور الیکشن کمیشن کے لئے مشکلات پیدا ہونگی، سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور محمد دلشاد کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کےبغیر نادرا کا ’’ڈیجیٹل ووٹرز فہرست ‘‘ بنانا غیر آئینی عمل اور دوقومی اداروں کا اس طرح کا اختلاف افسوسناک ہے ۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ذرائع کے مطابق نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا)نے جاری ووٹرز فہرست نظرثانی عمل میں ’’ڈیٹا انٹری آپریٹرز‘‘ کا تعاون فراہم کرنے سے انکار کیا ہے ، ماضی میں ہر بار نادرا یہ سہولت فراہم کرتا تھا ،جس کی وجہ سے دونوں ادارے مل کر ووٹرز فہرست کی نظرثانی کے عمل کو مکمل کرتے تھے ، مگر اس بار خلاف معمول نادرا نے تعاون سے انکار کیا ہے ۔ اب الیکشن کمیشن ہنگامی صورتحال میں دیگر اداروں سے افرادی قوت (ڈیٹا انٹری اپریٹرز)کے لئے رابطہ کرنے پر مجبور ہے ۔ الیکشن کمیشن کے پاس اپنا عملہ اتنا نہیں کہ وہ اتنی بڑی مہم کو شیڈول کے مطابق مکمل کرسکے ۔
الیکشن کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ نظرثانی کے لئے فراہم کی جانے والی فہرستوں میں بھی بڑے پیمانے پر غلطیاں ہیں، جس سے گھر گھر ووٹرز نظرثانی مہم میں عملے کو شدید دشواری کا سامنا رہا اور دو بار گھر گھر نظرثانی کے عمل میں توسیع کرنی پڑی ، یوں 30 دن کی مدت 55 دن ہوگئی اور اب بھی عملہ شکایت کر رہا ہے کہ ان کے کام کی تکمیل میں تاخیر ہوگی۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ فہرستیں بھی ’’نادرا‘‘ نے فراہم کی تھیں ۔
دوسری جانب نادرا حکام ڈیٹا انٹری اپریٹرز کی سہولت الیکشن کمیشن کو فراہم نہ کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ووٹرز فہرست کو شفاف اور غلطیوں سے پاک کرنے کے لئے الیکشن کمیشن خود کام کرئے تاکہ مستقبل میں اگر ووٹر فہرست پر کسی کو کوئی اعتراض ہو تو نادرا پر انگلی نہیں اٹھائی جاسکے ،نادرا پہلے ہی اپنی ’’ڈیجیٹل ووٹرز فہرست‘‘ مرتب کررہا ہے ،مینول ووٹر فہرست ترتیب دینے کی زمہ داری الیکشن کمیشن آف پاکستان پر ہی عائد ہوتی ہے ۔
نادراحکام کے مطابق ووٹر فہرست مرتب کرنے کے لئے الیکشن کمیشن کو اپنے ڈیٹا انٹر ی آپریٹر اس لئے بھی مہیا نہیں کرسکتے ہیں کہ نادرا کے پاس پہلے ہی عملے کی واضح کمی ہے اور ڈیٹا انٹری آپریٹر اگر الیکشن کمیشن کو فراہم کردئیے گئے تو نادرا مراکز کے رش میں مزید اضافہ ہوجائے گا ۔نادرا میں پہلے ہی بہت رش ہے۔
سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور محمد دلشاد نے دونوں قومی اداروں میں ووٹرز فہرست کے ایشو میں اختلاف افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نادرا کی یہ بات درست ہے کہ ووٹرز فہرست کی تیاری آئین کے آرٹیکل 218 کے مطابق الیکشن کمیشن کا کام ہے ۔
انہوں نے کہا کہ نادرا اگر الیکشن کمیشن کے بغیر کوئی ’’ڈیجیٹل ووٹرز فہرست ‘‘بنارہا ہے تو یہ غیر آئینی عمل ہے اور یہ کہ یہ فہرست کن مقاصد کے لئے استعمال ہوگی ؟ بادی النظر میں یہ الیکشن کمیشن کے کام میں مداخلت ہے اور ایک ہی وقت میں دو الگ الگ ووٹرز فہرستوں کی تیاری سوالیہ نشان ہے۔
کنور محمد دلشاد کے مطابق اطلاعات ہیں کہ اس بار نظرثانی کے لئے فہرستیں نادرا نے فراہم کی ہیں اور ان میں بڑے پیمانے پر خامیاں ہیں۔ الیکشن کمیشن کو اس پر انکوائری کرنی چاہئے کہ یہ کس کی کوتاہی ہے۔

