حبس بے جا کیس، عارف گل تین سال بعد عدالت میں پیش
پاکستان کی سپریم کورٹ کے حکم پر تین سال سے کوہاٹ کے فوجی حراستی مرکز میں حبس بے جا میں رکھے گئے شہری عارف گل کو پیش کیا گیا.
منگل کو عدالت عظمیٰ میں پیش کیے جانے پر جب چیف جسٹس نے معاملے کا پسِ منظر پوچھا تو عارف گل نے بتایا کہ کہ ‘میں ہوٹل پر کام کرتا تھا. کسی نے شکایت کی، مجھے گرفتار کر لیا گیا۔’
جسٹس قاضی امین نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل یہ بتائیں عارف گل پر الزام کیا ہے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ’عارف گل پر الزامات کی چارج شیٹ گزشتہ روز عدالت میں جمع کروا دی گئی تھی۔ عارف گل پر سیکورٹی پوسٹ پر حملے کا الزام ہے۔‘
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا عارف گل افغان شہری ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے اثبات میں جواب دیتے ہوئے بتایا کہ فی الحال اس کا شناختی کارڈ کینسل ہے اس حوالے سے مزید تحقیقات ہو رہی ہیں۔ اس وقت عارف گل کی کونسلنگ کی جا رہی ہے اور بحالی کا عمل جاری ہے۔‘
عارف گل کے دادا سلطان محمد نے عدالت میں موجود رپورٹرز کو بتایا کہ انھوں نے دو سال دس ماہ بعد اپنے پوتے کو دیکھا ہے۔ دیکھتے ہی پہچان لیا یہ عارف گل ہی ہے لیکن کمزور لگ رہا ہے۔’
انھوں نے بتایا کہ ‘جمیل چوک پشاور پر ہمارا گھر اور ہوٹل ہے۔ عارف گل ادھر ہی کام کرتا تھا کہ ایک دن ان کو اٹھا لیا گیا۔ ان کے ساتھ کچھ اور بھی لوگوں کو اٹھایا گیا تھا جو واپس آ چکے ہیں۔‘
منگل کو عدالت نے عارف گل کی حبس بے جا میں رکھنے کے خلاف درخواست کو حراستی مراکز کی آئینی حیثیت سے متعلق پہلے سے زیر سماعت کیس کے ساتھ منسلک کرنے کی ہدایت کی۔

