سیاست دان ججز کو سیاست میں گھسیٹنے سے گریز کریں: چیف جسٹس
پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے پارٹی پالیسی سے انحراف کی آئینی شق 63 اے کی تشریح کے لیے دائر صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ سیاست دان عدالتی کارروائی پر غیرذمہ دارانہ بیانات سے گریز کریں۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاکہ ’عدالت کے باہر کیا ہو رہا ہے اس سے کوئی سروکار نہیں۔ ہم سوشل میڈیا پر ہونے والی بحث کے زیر اثر نہیں۔‘
جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ ’آج اسمبلی اجلاس ہے بعض اوقات ہمارے سوالات پر بات ہوتی ہے، وزیراعظم نے کمالیہ جلسی میں کہا کہ کوئی ججز کو اپنے ساتھ ملا رہا ہے۔‘
جسٹس مظہر عالم نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ یہ کس طرح کے بیانات دیے جا رہے ہیں۔ اگر وزیراعظم کو ملک کے سب سے بڑے آئینی ادارے عدلیہ پر اعتماد نہیں تو پھر کیا ہو گا۔
اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے کہا کہ بعض اوقات بیانات درست رپورٹ نہیں کیے جاتے، اخبارات نے خبریں چھاپیں کہ جسٹس اعجاز الحسن نے کہا کہ ریفرنس واپس بھیج دیتے ہیں۔
جسٹس اعجاز الحسن نے ریمارکس دیے کہ ’میں نے یہ کہا تھا کہ ریفرنس واپس بھیجنے کا آپشن موجود ہے۔‘ نا اہلی کی میعاد کتنی ہے یہ تعین حکومت کیسے کرے گی۔

