پاکستان

ڈپٹی سپیکر کی رولنگ غیر آئینی قرار، قومی اسمبلی بحال

اپریل 7, 2022

ڈپٹی سپیکر کی رولنگ غیر آئینی قرار، قومی اسمبلی بحال

پاکستان کی سپریم کورٹ نے ڈپٹی سپیکر کی تحریک عدم اعتماد کے خلاف دی گئی رولنگ کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دیا ہے۔

جمعرات کی شام عدالت عظمیٰ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے متفقہ فیصلہ دیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کی اسمبلی تحلیل کرنے کی ایڈوائز کو بھی غیر قانونی قرار دیا۔

عدالت نے قومی اسمبلی کو بحال کرتے ہوئے ہدایت کی کہ عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ سنیچر 9 مارچ کو کی جائے۔

سپریم کورٹ کے آٹھ صفحات پر مشتمل مختصر فیصلے میں لکھا ہے کہ ’عدم اعتماد کی تحریک پر سپیکر کی رولنگ میں بتائی گئی وجوہات آئین اور قانون سے متضاد ہیں جن کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، اور اس لیے ان کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔‘

قبل ازیں چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کی عدم اعتماد کی تحریک پر دی گئی رولنگ کے ازخود نوٹس کیس میں کہا تھا کہ ایک بات تو نظر آگئی کہ رولنگ غلط ہے اب یہ بتائیں اگلا قدم کیا ہوگا۔

جمعرات کو سماعت کے دوران انہوں نے یہ بات اٹارنی جنرل کے دلائل پر کہی جب خالد جاوید خان نے کہا کہ وہ سپیکر کی رولنگ کا دفاع نہیں کریں گے۔ میں نئے انتخابات کے حوالے سے بات کر رہا ہوں۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ آپ کہتے ہیں انتخابات ہی واحد حل ہے، کوئی اور حل کیوں نہیں تھا؟ چاہتے ہیں پارلیمنٹ کامیاب ہو اور کام کرے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ دنیا میں کہیں بھی اپوزیشن لیڈر وزیراعظم نہیں بنتا۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی رکن اسمبلی کو عدالتی فیصلے کے بغیر غدار نہیں کہا جا سکتا۔

جسٹس بندیال نے کہا کہ دیکھنا ہے اب اس سے آگے کیا ہوگا، قومی مفاد اور عملی ممکنات دیکھ کر ہی آگے چلیں گے.

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ عدالت نے حالات و نتائج کو دیکھ کر فیصلہ نہیں کرنا۔ عدالت نے آئین کو مد نظر رکھ کر فیصلہ کرنا ہے، کل کو کوئی سپیکر آئے گا وہ اپنی مرضی کرے گا، عدالت نے نہیں دیکھنا کون آئے گا کون نہیں، فیصلے کے نتائج میں نہیں جائیں گے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے