پاکستان

کیا ایف آئی اے کا کام صحافیوں کی نگرانی کرنا ہے؟ ہائیکورٹ

اپریل 8, 2022

کیا ایف آئی اے کا کام صحافیوں کی نگرانی کرنا ہے؟ ہائیکورٹ

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف صحافی تنظیموں کی درخواست پر سماعت مکمل کر کے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

جمعے کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ لوگوں کے حقوق پامال ہو رہے ہیں، آپ نے ایس او پیز کی پامالی کی، قانون کی وہ دفعات لگائیں جو لگتی ہی نہیں۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ دفعات صرف اس لیے لگائیں کہ عدالت سے بچا جاسکے۔ یہ بتا دیں کہ کیسے اس سب سے بچا جاسکتا ہے۔

ایف آئی اے کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ قانون ہے اس پر عملدرآمد کرنے کے لیے دباؤ آتا ہے۔

چیف جسٹس نے ایف آئی اے کے حکام سے پوچھ کہ کیا انہوں نے کسی عام آدمی کے لیے ایکشن لیا، لاہور میں ایف آئی آر درج ہوئی، اسلام آباد میں چھاپہ مارا گیا۔

ایف آئی اے کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ وہ مقدمے کے اندراج سے قبل بھی گرفتاری ڈال دیتے ہیں، پھر برآمدگی پر ایف آئی آر درج کرتے ہیں۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ کس قانون کے مطابق گرفتاری ڈال سکتے ہیں، اپنے عمل پر پشیماں نہیں اور دلائل دے رہے ہیں۔

جسٹس اطہرمن اللہ کا کہنا تھا کہ کسی کا تو احتساب ہونا ہے، کون ذمہ دار ہے، آج آڈر جاری کرنا ہے۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ صحافیوں کی نگرانی کی جارہی ہے، کیا یہ ایف آئی اے کا کام ہے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ کالم نگار بلال غوری کے سوا باقی سب کی انکوائری مکمل ہو چکی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ بلال غوری نے وی لاگ میں کتاب کا حوالہ دیا تھا، کاروائی کیسے بنتی ہے، ملک میں کتنی دفعہ مارشل لا لگا یہ تاریخ ہے، لوگ باتیں کریں گے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے