پاکستان

عمران خان کی سکیورٹی کے لیے حکومت نے کیا اقدامات کر رکھے ہیں؟

مئی 16, 2022

عمران خان کی سکیورٹی کے لیے حکومت نے کیا اقدامات کر رکھے ہیں؟

پیر کو اسلام آباد میں وزارت داخلہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیر داخلہ کے احکامات کی روشنی میں سابق وزیراعظم عمران خان کی فُول پروف سکیورٹی کو یقینی بنایا گیا ہے۔

پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کوسابق وزیراعظم کے لیے مقرر سکیورٹی فورسز کی تعیناتی پر مکمل عملدرآمد کا کہا گیا ہے۔

سابق وزیراعظم عمران خان کے بنی گالہ ہاؤس کی سکیورٹی کے لیے پولیس اور ایف سی کے 94اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جن میں سے اسلام آباد پولیس کے 22 جبکہ ایف سی کے 72 اہلکار شامل ہیں۔

اس کے علاوہ خیبرپختونخواہ پولیس کی طرف سے 36، گلگت بلتستان پولیس کے چھ اہلکاروں کو بھی ان کی متعلقہ حکومتوں کی جانب سے سابق وزیراعظم کی سیکورٹی کے لیے تعینات کیا گیا۔

‏ایس ایم ایس سکیورٹی کمپنی کے 26 اور عسکری سکیورٹی کمپنی کے 9 اہلکار بھی بنی گالا ہاؤس کی سکیورٹی پر موجود ہیں۔

سابق وزیراعظم عمران خان کی دارالحکومت اسلام آباد سے باہر نقل و حرکت کے دوران اسلام آباد پولیس کی 4 گاڑیاں اور23 اہلکار جبکہ رینجرر کی ایک گاڑی اور پانچ اہلکار موجود ہوتے ہیں۔

وزارت داخلہ کے زیرنگرانی تھریٹ اسیسمنٹ کمیٹی سابق وزیراعظم عمران خان کی سکیورٹی سے متعلق معاملات کامسلسل جائزہ لے رہی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اس سلسلے میں واضح ہدایات دے رکھی ہیں۔

وزارت داخلہ کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کے پاس اگرکوئی مخصوص اطلاع ہے تو وہ اسے وزارت داخلہ سے ضرورشئیر کریں تاکہ سکیورٹی کے مزیدانتظامات کیے جا سکیں۔

خیال رہے گذشتہ چند روز سے سابق وزیراعظم عمران خان عوامی اجتماعات میں اپنی جان کوممکنہ خطرات سے متعلق خدشات کااظہار کر رہے ہیں۔

وزارت داخلہ کے مطابق بطور سابق وزیراعظم کی قومی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی جان کو لاحق ممکنہ خطرات، سازش اور دیگر معاملات سے وزارت داخلہ اور متعلقہ محکموں کو آگاہ کریں۔

وزارت داخلہ، سابق وزیراعظم عمران خان سے حاصل شدہ معلومات اور شواہد کی روشنی میں مزید اقدامات کرے گی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے