پاکستان

لاپتہ افراد کے مقدمات میں ریاست کے لاتعلق ہونے سے کیسے نمٹا جائے؟ ہائیکورٹ

مئی 17, 2022

لاپتہ افراد کے مقدمات میں ریاست کے لاتعلق ہونے سے کیسے نمٹا جائے؟ ہائیکورٹ

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سوال کیا ہے کہ لاپتہ افراد کے مقدمات میں ریاست کے لاتعلق ہو جانے کے رویے سے کیسے نمٹا جائے؟

منگل کو لاپتہ صحافی و بلاگر مدثر نارو کیس میں چیف جسٹس اطہر من اللہ کے سوال پر عدالتی معاون ایڈوکیٹ فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ عدالت اس معاملے میں مؤثر اور ٹھوس فیصلہ دے جس پر عمل نہ ہونے کی صورت میں توہین عدالت کی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

مدثر نارو کی والدہ کی وکیل ایمان مزاری نے عدالت کو بتایا کہ سیکریٹری داخلہ نے کل ہمارے ساتھ ملاقات میں معاملہ وزارت دفاع کے سامنے لے جانے کا مشورہ دیا ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ریاست مکمل طور پر خود کو اس معاملے سے لاتعلق رکھتی دکھائی دے رہی ہے۔

عدالتی معاون نے کہا کہ پانچ قانونی سوالات ہیں:
‏۱- ریاستی سیکیورٹی کا بنیادی انسانی حقوق سے توازن کیا جائے، یہ واضح ھیکہ ان معاملات میں ذاتی عناد کا جھگڑا نہیں۔
‏۲- تمام لاپتہ افراد کے کیسز جبری گمشدگی کے کیسز نہیں، پھر جہاں جبری گمشدگی کے ثبوت نہیں
‏۳- وہ کیس جو جبری گمشدگی کے ہیں مگر ثبوت نہیں۔

معاون وکیل نے کہا کہ اب تک بہت شواہد آ چکے ہیں کچھ مقدمات میں کہ جبری گمشدگی ریاستی پالیسی ہے، فریقین کے وکلا مؤثر اور قابل عمل قانونی امکانات پر دلائل دیں، سپریم کورٹ نے پروڈکشن آرڈر والے کیسوں میں خصوصی بینچ کی تشکیل کا حکم دے رکھا ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے