عمران خان پر توہین عدالت نہیں لگا سکتے، معاملہ ختم: سپریم کورٹ
پاکستان کی سپریم کورٹ نے عدالتی فیصلے سے انحراف پر عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست نمٹاتے ہوئے قرار دیا ہے کہ معاملہ ختم ہو چکا ہے۔
جمعرات کو عدالت عظمی کے لارجر بینچ کی سربراہی کرتے ہوئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ڈی چوک پر جو لوگ آئے وہ بغیر قیادت کے تھے۔
عدالت کو یاد دلایا گیا کہ عمران خان نے عدالتی فیصلے کے بعد اپنے کارکنوں کو ڈی چوک پہنچنے کے لیے کہا۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین کو عدالتی حکم درست طور پر نہ پہنچایا گیا ہو۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت نے خود ثالت بننے کی ذمہ داری لی۔ پی ٹی آئی کو بھی حکومت پر کئی تحفظات ہوں گے۔
اٹارنی جنرل نے بتایا کہ عدالت کو کرائی گئی یقین دہانی کی خلاف ورزی ہوئی۔
چیف جسٹس نے جواب دیا کہ جو کچھ کل ہوا ہے وہ آج ختم ہو چکا ہے، انتظآمیہ کے اختیارات استعمال نہیں کر سکتی۔
ان کا کہنا تھا کہ کل جو توڑ پھوڑ ہوئی ہم اس کا الزام کسی پر نہیں لگائیں گے۔
جسٹس بندیال کے مطابق عوام میں بہت جوش تھا، ہو سکتا ہے کہ شیلنگ سے لوگ بھی زخمی ہوئے ہوں۔
چیف جسٹس کے مطابق لوگوں نے آنسوگیس کی شیلنگ کا اثر ختم کرنے کے لیے گرین بیلٹ کو آگ لگائی۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ’عدالت نے ایک متوازن حکم نامہ جاری کیا لیکن عدالت کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی گئی آئندہ ٹھوس وجوہات پر ہی سیاسی معاملات میں مداخلت کریں گے۔‘

