مہنگائی کے ستائے غریبوں کے لیے شہباز شریف کے پیکج میں کیا ہے؟
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے عوام کے لیے 28 ارب روپے کے ریلیف پیکچ کا اعلان کیا ہے۔
جمعے کی رات کو سرکاری ٹی وی پر قوم سے اپنے پہلے خطاب میں انہوں نے کہا ’ہم نے دل پر پتھر رکھ کر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔ دنیا میں پیٹرول کی قیمت آسمان کو چھو رہی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک بھی اس معاشی صورتحال سے دوچار ہیں، لیکن سابق حکومت نے اپنے سیاسی فائدے کے لیے سبسڈی کا اعلان کیا۔‘
شہباز شریف کا کہنا تھا یہ فیصلہ ملک کو معاشی بحران سے بچانے کے لیے ضروری تھا۔ یہ مشکل فیصلہ ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے اہم قدم ہے۔
انہوں نے کہا ’ہم غریب عوام کو اس اضافے سے بچانے کے لیے 28 ارب کے ریلیف پیکچ کا اعلان کر رہے ہیں۔ ایک کروڑ 40 لاکھ گھرانوں کو دو ہزار روپے ماہانہ دیں گے۔ یہ پیکج بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے علیحدہ ہوگا۔ اس ریلیف پیکج کو بجٹ میں شامل کیا جائے گا۔ یوٹیلٹی سٹور پر 10 کلو آٹے کا تھیلا چار سو روپے میں دستیاب ہو گا۔‘
وزیراعظم نے گزشتہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ’داخلی محاز کی طرح خارجی محاز پر بھی قومی مفاد کے لیے سابق حکومت مہلک ثابت ہوئی۔ پاکستان کے دوست ممالک کو ناراض کیا گیا۔ ہم نے ان غلطیوں کی اصلاح کا کام شروع کر دیا ہے۔‘
وزیراعظم نے کہا ’جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے انڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ غیرقانونی اقدامات کو ختم کرے تاکہ تمام متنازع امور کو حل کرنے کے لیے پیش رفت ہو۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے ایک اور چیلنج موجود ہے۔ ہم نے صوبوں کے ساتھ مل کر نیشنل ایکشن پلان کی بحالی شروع کر دی ہے۔ یہ قومی منصوبوں کو مکمل کرنے کے لیے بہت ضروری ہے۔
شہباز شریف نے ملک میں آزادی اظہار کے حوالے سے کہا ’گزشتہ دور میں آزادی اظہار پر پابندیاں لگائی گئیں۔
پاکستان آزادی اظہار کے انڈیکس میں بہت پیچھے چلا گیا۔ سابق وزیراعظم کو آزادیاں چھیننے والے آمروں میں شامل کیا گیا۔‘
ان کا کہنا تھا ’کوئی قوم اندورنی خلفشار پر قابو پائے بغیر ترقی نہیں کر سکتی۔ ہم نے سیاسی اور گروہی تقسیم سے بالا تر ہو کر عملی اقدام کا فیصلہ کیا ہے۔‘

