منی لانڈرنگ کیس، شہباز شریف کے وکیل نے مقصود چپڑاسی کے بارے میں کیا بتایا؟
منی لانڈرنگ کیس میں وزیراعظم شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے ضمانت کی درخواست پر دلائل مکمل کر لیے ہیں۔
سنیچر کو لاہور کی خصوصی عدالت سینٹرل میں وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ سرکاری وسائل استعمال کر کے مقدمات بنائے گئے۔
وکیل امجد پرویز نے عدالت کو بتایا کہ کوئی شہادت موجود نہیں جس سے ذاتی مفاد کے لیے اختیارات کا استعمال ثابت ہوتا ہو۔ ’جس شخص کا اس خاندان کے قریب سے سایہ بھی گزرا اس کی بھی تحقیقات کی گئیں۔‘
ایف آئی اے سپیشل کورٹ سینٹرل میں وزیراعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کے کیس میں جج اعجاز حسن اعوان کے سامنے دلائل میں وکیل امجد پرویز نے ملزم زاہد کا بیان پڑھ کر سناتے ہوئے بتایا ’استغاثہ کہتا ہے کہ یہ اکاؤنٹ سلمان شہباز کی ٹرانزیکشن کے لیے کھولا گیا۔ کوئی پیسے بھی آتے ہیں تو ہر طرح سے اسے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ بھی دیکھا جاسکتا ہے کیا یہ پیسہ کیسی غیر قانونی ایکٹویٹی میں استعمال ہوا ہے۔‘
امجد پرویز کے مطابق پراسیکیوشن نے ایف آئی آر درج کی ہے کہ آٹھ ارب 45 کڑور بنتے ہیں اور یہ اکاؤنٹ بے نامی ہے مشتاق چینی نامی شخص کا ہے۔
وکیل نے بتایا کہ آٹھ ارب روپے سے زائد رقم اس اکاؤنٹ میں آئی تو مشتاق چینی کے خلاف ایف آئی آر درج کیوں نہیں کی۔ مشتاق چینی کا ابھی تک کسی سرکاری سطح پر ذکر نہیں ہوا کیونکہ وہ پبلک آفس ہولڈر نہیں۔
وکیل امجد پرویز کے مطابق چار ارب روپے دس سال مختلف اکاؤنٹس میں ٹرانسفر کریں تو کیا ایک اکاؤنٹ میں چار ارب روپے رہ سکتے ہیں؟
امجد پرویز نے عدالت کو بتایا کہ بینک اکاؤنٹ کھولنے کے لیے جو فارم ہے اس میں کہیں نہیں لکھا کہ اکاؤنٹ شہباز شریف کے لیے کھولا جا رہا ہے۔
عدالت نے پوچھا کہ کیا ایف آئی اے کے چالان میں چوہدری شوگر ملز کا ذکر ہے۔
وکیل نے جواب دیا کہ چالان میں رمضان شوگر مل اور حدیبیہ شوگر مل کا ذکر ہے۔ ایف آئی اے کی جانب سے چالان میں کہانیاں لکھی گئی ہیں۔ چالان میں کوئی شواہد نہیں لگائے گئے۔
امجد پرویز نے بتایا کہ ایف آئی اے نے کئی لوگوں کے بیانات ریکارڈ کیے مگر نہ انہیں ملزم بنایا گیا اور نہ گواہ۔
وکیل نے بتایا کہ مقصود چپڑاسی کے بیان دیکھیں ان تمام چیک پر سیکف لکھا گیا ہے۔
عدالت میں ملزمان کے اوپنگ اکاؤنٹ فارم پیش کیے گئے۔ کیشئیر رمضان کا اکاؤنٹ اوپننگ فارم بھی پیش کیا گیا۔
فاضل جج نے کہا کہ پرسنل ڈیٹا فارم پر کراس لگا ہوا ہے۔
وکیل نے بتایا کہ یہ تو بیانات پر ساری کہانیاں لکھی گئی ہے۔ جس نے اکاونٹ اوپننگ کا لیٹر جاری کیا نہ ملزم ہیں نہ مدعی اور نہ شامل تفتیش کیا گیا۔
امجد پرویز کے مطابق یہ کیس سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا ہے۔ عدالت نے دیکھا کہ اس کیس میں کیا کچھ ہے۔
مقصود چپڑاسی سے شہباز شریف کا کوئی تعلق نہیں۔
امجد پرویز نے عدالت کو بتایا کہ اس پر سپریم کورٹ کی ججمنٹ بھی پیش کرتا ہوں۔
خواجہ سعد رفیق کی ججمنٹ بعدازگرفتاری درخواست میں ایک سو سے زائد صفحات پر مشتمل فیصلہ ہے امجد پرویز نے عدالت میں ججمنٹ پیش کی۔
وکیل کے مطابق جب شہباز شریف جیل کوٹ لکھپت میں تھے تو ایف آئی اے شامل تفتش کر کے چلی گئی۔ اگر اس مقدمے میں ان کا کوئی کردار ہوتا تو اس وقت گرفتار کیوں نہ کیا۔
امجد پرویز نے بتایا کہ ایف آئی اے اور نیب کے کیسز کو ایک ہی وزیر احتساب دیکھ رہا تھا جب انہوں نے دیکھا کہ وہاں سے ضمانت ہوگئی تو ایف آئی اے میں مقدمہ درج کیا۔
امجد پرویز کے مطابق منی لانڈرنگ کے نیب کے کیس میں ضمانت مل گئی تو جب بجٹ کا وقت آیا ایف آئی اے کی جانب سے نوٹس جاری کر دیا۔
امجد پرویز نے کہا کہ محمد مقصود پر الزام ہے کہ اس نے تین ارب 40 کروڑ کی ٹرانزیکشن کیں۔
محمد مقصود کا سیلیری کے علاوہ جو بھی اکاونٹ کھلا وہ رمضان شوگر مل کے لیٹر پیڈ پر نہ تھا۔ محمد مقصود کے اکاونٹ میں 98 فیصد ٹرانزیکشن کیش نہیں بلکہ ٹرانسفر انٹریز ہیں۔
امجد پرویز نے بتایا کہ محمد مقصود کے اکاونٹ سے کبھی شہباز شریف کو پیسے نہیں گئے۔ محمد مقصود یہاں موجود نہیں اس لیے ان کے متعلق زیادہ بات نہیں کر سکتا۔
امجد پرویز نے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق محمد مقصود اپنی ریٹررنز جمع کراتا تھا۔ اگر مان لیں کہ مقصود بے نامی تھا تو یہ دیکھنا ہے کہ وہ کس قانون کے تحت جرم ہے۔ محمد مقصود پبلک آفس ہولڈر نہیں تھا۔
وکیل امجد پرویز کا کہنا تھا کہ اس کیس کو جس انداز سے بھی دیکھ لیں شہباز شریف سے کوئی بھی تعلق بنتا ہو تو میں عدالت سے چلا جاوں گا۔
امجد پرویز کے مطابق تفتیشی نے سارا کیس کمرے میں بیٹھ کر بنایا۔
شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے درخواست ضمانت پر دلائل مکمل کر لیے۔

