آئی ایم ایف خوش نہیں، وزیر خزانہ کا مزید مشکل فیصلوں کا عندیہ
پاکستان کے وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ حکومت کے پاس مشکل فیصلوں کے سوا کوئی آپشن نہیں۔ آئی ایم ایف ہم سے خوش نہیں ہے
ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب، وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا اور چیئرمین ایف بی آر عاصم احمد کے ہمراہ پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے دور میں تاریخی معاشی خسارہ ہوا۔ آئی ایم ایف خوش نہیں ہے، لیکن ہم ان سے بات کریں گے۔ اس وقت حکومت کے پاس مشکل فیصلوں کے سوا کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے۔ اسی لیے حکومت نے مشکل فیصلے لیے اور مزید بھی ضروری ہوئے تو مشکل فیصلے لیں گے۔ بجٹ بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی کارکردگی کی وجہ سے ان کی تنخواہوں میں 15 فی صد کا اضافہ کیا گیا ہے۔ پاکستان اس وقت مشکل وقت میں کھڑا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم نے مشکل وقت میں بجٹ دیا ہے۔ 500ارب روپے کا سرکلر ڈیٹ دیا ۔ 1100ارب روپے بجلی کی مد میں سبسڈی دی
وزیر خزانہ نے پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ گیس اور پاور سیکٹر کی سبسڈی ختم کی ہے۔ وفاقی بجٹ میں 459 ارب روپے خسارے کا سامناہے۔ بجلی کی قیمتوں کو متعین کرنے کا نظام خراب ہے، ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوش میں نقائص ہیں، اگر انہیں درست نہ کیا تو ملک کو لے ڈوبے گا۔
وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے مزید کہا کہ ملک کو انتظامی لحاظ سے ٹھیک کرنا پڑے گا۔ ہم 90 میں بنگلا دیش سے آگے تھے، کیا وجہ ہے کہ ہم اس نہج پر آگئے ہیں۔ اگر سری لنکا جیسی حالت ہوئی تو لوگ معاف نہیں کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ عوام کا ساتھ چاہتا ہوں، پٹرول مہنگا کر کے گھر پیسے نہیں لے جارہے۔ گیس اور پاور سیکٹر کی سبسڈی ختم کی ہے، اخراجات صرف 3 فیصد بڑھ رہے ہیں۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ مالیاتی پالیسی میں کچھ سختی آئے گی۔ ہم ملکی وسائل کا پانچ فیصد بھی استعمال نہیں کرپارہے ہیں۔ تاجروں کیلئے فکسڈ ٹیکس اسکیم لائے ہیں
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ 25ہزار دکانداروں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کریں گے۔ دکانداروں پر معمولی ٹیکس عائد کررہے ہیں۔ جو چیزیں رہ گئی ہیں وہ بجٹ میں شامل کریں گے۔ بجٹ میں آئندہ 15دن میں کچھ چھوٹی تبدیلیاں ہوں گی۔

