پاکستان

آئی ایم ایف کی ایما پر مہنگائی،حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

جون 13, 2022

آئی ایم ایف کی ایما پر مہنگائی،حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

پاکستان میں رگ جاں کو دبوچتی مہنگائی کے خلاف عوامی ورکرز پارٹی کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ کیاگیا.

محنت کش طبقےکے افراد، کچی آبادی کے رہائشیوں، طلبہ، ٹریڈ یونین کےممبران اور ترقی پسند سیاسی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد نے آبپارہ چوک میں احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی۔

‎’مہنگائی مخالف مارچ’، معاشی انصاف کے بنیادی مسئلے کے گرد مرکوز تھا کہ پاکستانی معیشت کس طرح اکثریتی عوام کا حق مار کر، ایک محدود تعداد کی اشرافیہ کے منافع کے ارد گرد گھوم رہی ہے۔ مظاہرین نے مرکزی دھارے کی سیاسی زبردست جماعتوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ کیسے، سامراج مخالف حقیقی متبادل پیش کیے بغیر، عالمی مالیاتی ادارے کے غیر انسانی مطالبات کو لاگو کر رہی ہیں۔

‎اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے، عوامی ورکرز پارٹی کے مرکزی رہنما اور ڈپٹی جنرل سیکرٹری ڈاکٹر عاصم سجاد اختر نے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی اس بہانہ بازی کی سرزنش کی کہ پٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ غریب دشمن اقدام نہیں ہے جو اشرافیہ کی طرف سے اٹھایا گیا جو اپنی فضول خرچیوں کو کم کرنے سے انکاری ہے۔

‎انہوں نے حکومت کو چیلنج کیا کہ وہ اربوں کی سبسڈی میں کٹوتی کرے جو وہ کاروباری اداروں کو ایمنیسٹی سکیموں کی شکل میں دیتی ہے، اور فوج اور بیوروکریسی کو مسلسل دی گئی چھوٹ اور مراعات کو کم کرے۔

‎انہوں نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف امریکی سامراج کا اصل چہرہ ہے۔ ترقیاتی بجٹ میں بے پناہ کٹوتیاں اور بڑھتے ہوئے فوجی بجٹ، آئی ایم ایف کے درجنوں پروگراموں کی میراث تھے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ ملک کو سرمایہ داروں کے لیے اس کے وسائل کو لوٹنے کے لیے کھلا چھوڑ دیا جائے، اور محنت کش طبقے کے لوگوں کے استحصال سے بچنے کی کسی بھی صلاحیت کو ختم کر دیا جائے۔

‎انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ لوگ ایک حقیقی سامراج مخالف متبادل کے گرد جمع ہوں کیونکہ حالات بدتر ہوتے جارہے ہیں۔

‎عوامی ورکرز پارٹی راولپنڈی۔اسلام آباد کے جنرل سیکرٹری اقبال جہاں نے زور دیا کہ قیمتوں میں حالیہ اضافے نے خاندانوں کو ظالمانہ طرزِ زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی قیمتوں نے کچی آبادی کے رہائشیوں کے لیے سفر کرنا ناقابل یقین حد تک مشکل بنا دیا ہے۔

‎عوامی ورکرز پارٹی سے پروفیسر شاہجہان نے سوال کیا کہ بظاہر جمہوریت اور سامراج دشمنی کی دعوےدار مرکزی دھارے کی جماعتوں نے آئی ایم ایف کی عائد کردہ کٹوتیوں اور شرائط کا کوئی متبادل پیش کرنے سے انکار کیوں کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آئی ایم ایف نے مسلسل صحت، تعلیم اور عوامی اخراجات کو نشانہ بنانے کی شرائط تو عائد کیں لیکن تیزی سے بڑھتے فوجی بجٹ پر کوئی روک ٹوک نہیں رکھی گئی۔

‎انہوں نے کہا کہ دفاعی بجٹ بڑھا کر1550 ارب روپے کر دیا گیا ہے اور فوجی پنشن350 ارب روپے۔ جبکہ ترقیاتی بجٹ میں کمی کر کے800 ارب تک محدود کر دیا گیا ہے۔ زرعی آمدنی اور بینکنگ سیکٹر پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا ہے۔ بینک بہت زیادہ منافع کما رہے ہیں لیکن کھاتہ داروں کو کوئی حصہ نہیں دیا جاتا۔ نئے بجٹ میں 3950 ارب روپے قرض کی مد میں دیئے جائیں گے، دفاع کے لیے 1535 ارب روپے، پنشن کے لیے 530 ارب، سبسڈیز کے لیے660 ارب، ترقیاتی بجٹ کے لیے 808 ارب، جبکہ وفاقی گئے کے اخراجات کے لیے 550 ارب روپے مختص کئے

‎دیگر مقررین میں فرحان عباسی، رشیدہ سلیمی، رخسانہ انور، بشیر حسین شاہ، مصطفیٰ طارق، عمر عبداللہ اور عمل ہما شامل تھے۔ مارچ میں متحدہ عوامی موومنٹ، ریوولوشنری سٹوڈنٹس فرنٹ، جے کے این ایس ایف، ایم کے پی اور طبقاتی جدوجہد کے اراکین نے بھی بھرپور شرکت کی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے