منی لانڈرنگ کیس، سابق وفاقی وزیر مونس الہی کے خلاف مقدمہ درج
پاکستان مسلم لیگ(ق) کے رہنما مونس الہی کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔
بدھ کو ایف آئی اے کاپوریٹ کرائم سرکل نے سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی کے بیٹے سمیت آٹھ افراد پر منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا.
مونس الہی کی شوگر مل کا ڈائریکٹر نائب قاصد اٹھائیس ارب کے اثاثوں کا مالک نکلا۔ ایف آئی آر کے مطابق اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کے کردار کا بھی تعین کیا جائے گا .
ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل، لاہور کی انکوائری نمبر 134/2020 کو شوگر انکوائری کمیشن 2020 کی رپورٹ کے مطابق ایکشن میٹرکس موصول ہونے پر 07-08-2020 کو درج کیا گیا تھا، جس کے تحت ایف آئی اے کو وفاقی حکومت کی جانب سے تحقیقات کا حکم دیا گیا تھا۔
مختلف شوگر ملز کے مالی فراڈکے خلاف جاری تحقیقات کے دوران، یہ سامنے آیا کہ ملزمان ایم نواز بھٹی اور مظہر عباس نے اپنی شناخت دی اور چوہدری مونس الٰہی کی جانب سے کام کیا تاکہ آر وائی کے ملز لمیٹڈ کے قیام کے لیے حاصل کیے گئے فنڈز/آمدنی کی اصلیت اور نوعیت کو چھپایا جا سکے۔
سابق وفاقی وزیر مسند الہی نے اپنے خلاف درج منی لانڈرنگ کے مقدمہ میں خود ایف آئی اے کے سامنے پیش ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ کیا گرفتار کریں گے میں خود ایف آئی اے دفتر جا رہا ہوں.
مونس الہی نے کہا کہ شریفوں کی اصلیت جانتے تھے اسی لئے کسی لالچ میں نہیں آئے۔ن لیگ کچھ بھی کر لے عمران خان کے ساتھ کھڑا ہوں اور کھڑا رہوں گا۔
انہوں نے کہا کہ مقدمہ درج ہونے سے پہلے ایف آئی اے کی طرف سے کوئی نوٹس نہیں ملا۔ میرے تمام اثاثے ڈکلیئر ہیں۔

