پاکستان

قومی سلامتی کمیٹی اجلاس، طالبان سے مذاکرات پر اتفاق

جولائی 5, 2022

قومی سلامتی کمیٹی اجلاس، طالبان سے مذاکرات پر اتفاق

پاکستان میں قومی سلامتی کمیٹی نے طالبان سے مذاکرات کے بعد معاہدے کے معاملے پر سٹیرنگ کمیٹی تشکیل دی ہے۔

منگل کو وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت پارلیمانی کمیٹی برائے نیشنل سکیورٹی کے اجلاس کا پارلیمنٹ ہاﺅس میں انعقاد کیا گیا.

اجلاس میں قومی پارلیمانی وسیاسی قیادت، چئیرمین سینٹ، پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی ، دفاع سے متعلق قومی اسمبلی وسینٹ کی مجالس قائمہ کے اراکین، وفاقی وزرا، صوبائی وزرا اعلی کے علاوہ گلگت بلتستان کے وزیراعلی ، وزیراعظم آزاد ریاست جموں وکشمیر اور عسکری قیادت نے شرکت کی۔

اجلاس کو قومی سلامتی کے امور اور کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ ہونے والی حالیہ بات چیت سے متعلق آگاہ کیاگیا۔

اعلامیےکے مطابق شرکاءنے اعادہ کیا کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف پاکستان نے غیرمعمولی کامیابیاں حاصل کی ہیں جن کا عالمی سطح پر اعتراف کیاگیا ہے۔

اجلاس نے قوم اور سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا جن کی وجہ سے ملک کے تمام حصوں میں ریاستی عمل داری یقینی ہوئی۔

اجلاس نے اعادہ کیا کہ دستور پاکستان کے تحت طاقت کا استعمال صرف ریاست کا اختیار ہے۔

اجلاس نے سانحہ ’اے پی ایس‘ سمیت دہشت گردی کا نشانہ بننے اور اِس کے خلاف کارروائی کے دوران شہید ہونے والوں کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے واضح کیا کہ ریاست پاکستان اپنے شہداءکی قربانیوں اور متاثرہ خاندانوں کی امین ومحافظ تھی، ہے اور رہے گی۔

اجلاس نے بہادر قبائلی عوام کو بھی زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ اُن کی قربانیوں اورکلیدی حمایت سے شدید مشکلات اور مصائب کے بعد امن واستحکام کی منزل حاصل ہوئی ۔

اجلاس کو بتایاگیا کہ سکیورٹی فورسز کی موثراور عملی کارروائیاں کلیر ،ھولڈ، تعمیر اور اختیارات کی سول انتظامیہ کو منتقلی، کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔

اجلاس نے زور دے کر کہاکہ پاکستان کے عوام کی خواہشات کے مطابق ریاست ان علاقوں کو بااختیار بنانے اور اِن کی خوش حالی کے لئے پختہ عزم پر کاربند ہے۔

افغان حکومت کی معاونت اور سول و فوجی حکام کی قیادت میں حکومت پاکستان کی کمیٹی کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ آئین پاکستان کے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے بات چیت کررہی ہے تاکہ علاقائی اور داخلی امن کو استحکام مل سکے۔ اجلاس نے قرار دیا کہ حتمی نتائج پر عمل درآمددستور پاکستان کی حدود قیود کے اندر ضابطے کی کارروائی کی تکمیل اور حکومت پاکستان کی منظوری کے بعد ہوگا۔

پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی نے بات چیت کے اس عمل کو آگے بڑھانے کی باضابطہ منظوری دے دی جبکہ ایک ’پارلیمانی اوورسائیٹ کمیٹی‘ تشکیل دینے کی بھی منظوری دی جوآئینی حدود میں اس عمل کی نگرانی کی ذمہ دار ہوگی۔

اجلاس نے ’نیشنل گرینڈ ری کنسی لی ایشن ڈائیلاگ‘ کی اہمیت کی تائید کرتے ہوئے قرار دیا کہ آج کی نشست اس سمت میں پہلا قدم ہے۔

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے وزیر اعظم سردار تنویر الیاس نے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اداروں نے بریفنگ دی۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وہ عمران خان کی اجازت سے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہوئے۔

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے پر تنویر الیاس نے کہا کہ ممکن ہے خرابی صحت کے باعث نہ آئے ہوں۔

سابق وزیراعظم عمران خان کو اجلاس میں شرکت کا دعوت نامہ نہیں بھجوایا گیا تھا.

اجلاس میں کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نےبھی شرکت کی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے