پاکستان

اینکر عمران ریاض کی گرفتاری،کون کیا کہہ رہا ہے؟

جولائی 6, 2022

اینکر عمران ریاض کی گرفتاری،کون کیا کہہ رہا ہے؟

اینکر عمران ریاض کی گرفتاری کے معاملے پر سوشل میڈیا پر تبصروں کا سلسلہ جاری ہے۔ ہر ایک کی اپنی رائے ہے اور ہر کسی کو اپنی رائے رکھنے کا حق حاصل ہے۔

صحافی عمر چیمہ نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ میڈیا میں واضح تقسیم ۲۰۱۴ میں حامد میر پر حملے کے بعد نظر آئی۔ اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی کی تصویر چلانے پر ہنگامہ برپا ہوا۔ عمران ریاض اس وقت جیو کے خلاف صف اوّل کے حملہ آوروں میں شامل تھے۔ صحافیوں کی ہرا سگی اور ان پر گولیاں چلانے کے واقعات خان کی حکومت میں جاری رہے اب انہیں جمہوریت نظر آئی
صحافی شہزاد اقبال نے کہا کہ عمران ریاض کی صحافت سے اختلاف ہے مگر ان کے نقطہ نظر پر انہیں گرفتار کرنا قابل مذمت ہے،لیکن یہ بات بھی کہنا ضروری ہے کہ جب دوسرے صحافیوں کی آواز دبائی جا رہی تھی تو عمران ریاض ان آوازوں کو غدار قرار دے رہے تھے،جس پر غیر قانونی اور نفرت انگیز مہم کا وہ حصہ رہے آج وہ اسی کا شکار ہی۔

صحافی اعزاز سید نے کہا کہ عمران ریاض کی گرفتاری نا مناسب ہے۔ آپ ان سے اختلاف اور ان کی سیاسی وابستگی پر اعتراض کر سکتے ہیں مگر آزادی اظہار کو گرفتاریوں کے زریعے دبانا درست نہیں۔ عمران ریاض کو گرفتار کرنے کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔

صحافی ثاقب بشیر نے لکھا کہ صرف اختلاف رائے پر جھوٹے مقدمات بنانا نہ کل درست تھا نہ آج درست ہے۔ ماضی میں بھی یہی طریقہ کار تھا۔ محب وطن اچانک جاگ کر ایف آئی آر کرا دیتا تھا آج بھی پیٹرن وہی ہے باقی نہ صحافی نہ کوئی اور قانون سے بالا ہے لیکن اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈے اور جعلی مقدمے قابل مذمت ہیں۔

صحافیوں کے علاوہ بھی سوشل میڈیا صارفین نے عمران ریاض کی گرفتاری پر ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا ہے۔

ایک صارف نے لکھا کہ تحریک انصاف کا کارکن اس وقت بہت مسکراتا تھا جب سابقہ دور میں دیگر صحافیوں کو اٹھایا گیا۔ یہ دنیا مکافات عمل ہے ،کبھی کسی کی بے بسی کا مذاق نہ اڑاؤ۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے