دو اضلاع کی پولیس اینکر عمران ریاض کو سارا دن کیوں گھماتی رہی؟
تحریک انصاف سے منسلک ٹی وی اینکر عمران ریاض خان کو صوبہ پنجاب کے دو اضلاع اٹک اور راولپنڈی کی پولیس گرفتاری کے بعد بدھ کو سارا دن گاڑی میں بٹھا کر مختلف عدالتوں میں گھماتی رہی۔
منگل کو رات گئے اسلام آباد موٹروے ٹول پلازا سے گرفتار کیے جانے کے بعد ٹی وی اینکر کو تھانہ اٹک منتقل کیا گیا تھا۔
بدھ کی صبح عمران ریاض کو ضلع اٹک کے سول جج یاسر تنویر کی عدالت میں پیش کیا گیا جنہوں نے مقدمے کی سماعت کے بعد کہا کہ یہ کیس اُن کے دائرہ اختیار سماعت سے باہر ہے۔
عدالتی احکامات کے بعد اینکر کو اٹک پولیس نے ضلع راولپنڈی کی پولیس کی تحویل میں دینے کی پیشکش کی۔
پولیس ٹیم عمران ریاض کو لے کر شام کے وقت راولپنڈی کے سپیشل مجسٹریٹ پرویز خان کی عدالت میں پیش ہوئی۔
راولپنڈی کے جوڈیشل کمپلیکس میں عمران ریاض خان کے کیس کی سماعت سپیشل مجسٹریٹ پرویز خان کی عدالت میں ہوئی تو جج نے کہا کہ یہ کیس ان کی عدالت کا نہیں بنتا۔
سپیشل مجسٹریٹ پرویز خان نے کہا کہ وہ ایف آئی اے عدالت کے جج ہیں۔
عمران ریاض خان کے وکیل نے دلائل دیے کہ اینکر کے اسلحہ اور بلٹ پروف گاڑی کے لائسنس منسوخ کیے گئے۔
وکیل نے بتایا کہ ایک ماہ قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران ریاض خان کی حفاضتی ضمانت منظور کی، گزشتہ رات اسلام آباد ٹول پلازہ پر اٹک پولیس نے گرفتار کیا۔
وکیل کے مطابق رات کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست بھی دائر کی تھی، صبح ان کو اٹک کی مقامی عدالت میں پیش کیا گیا۔
وکیل کے مطابق اسلام آباد ٹول پلازہ راولپنڈی اور اسلام آباد کی بارڈر لائن ہے۔
عمران ریاض کے وکیل نے بتایا کہ اٹک میں کیس کے دوران جج نے سوال کیا کہ مقدمے میں پیکا دفعات تو کیس کیسے سن سکتا ہوں۔
وکیل کے مطابق معزز جج نے اٹک پولیس سے پوچھا کہ آپ کیسے یہ دفعات لگا سکتے ہیں۔
راولپنڈی کے جج نے کہا کہ ضلع اٹک کی ایف آئی آر کا مقدمہ وہ کیسے سن سکتے ہیں؟
جج نے ملزم کو دوبارہ اٹک کی عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی۔
رات ساڑھے نو بجے پولیس ملزم اینکر کو لے کر اٹک روانہ ہو گئی۔

