شہباز حکومت کا شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ شمسی توانائی بجلی پیدا کرنے کا ایک صاف، سستا اور ماحول دوست ذریعہ ہے۔ شمسی توانائی کے استعمال سے ڈسٹری بیوشن لاسز،بجلی کی چوری اور گردشی قرضے جیسے مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ شمسی توانائی سے پیدا کی گئی بجلی سستی ہوگی اور عوام پر مہنگائی کا بوجھ کم ہوگا۔ اُنہوں نے کہا کہ اس چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم پاکستان کی پہلی جامع سولر انرجی پالیسی سامنے لا رہے ہیں۔ اس پالیسی کا نفاذ صوبوں کی باہمی مشاورت سے ہوگا۔
وزیراعظم نے اسلام آباد میں انرجی ٹاسک فورس کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ ملک کو توانائی کے شعبے میں خودکفیل بنایا جائے۔
اجلاس میں ملک میں شمسی توانائی کے فروغ کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی. اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک میں ایندھن سے چلنے والے پاور ہاؤسز کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کی تجویز زیر غور ہے.
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ 11 KV کے2000 فیڈرز پر شمسی توانائی کی پیداوار کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔ علاوہ ازیں ملک بھر میں سرکاری عمارات کی شمسی توانائی پر منتقلی کی تجویز کے حوالے سے اجلاس میں تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ اگلے 10 سالوں میں سرکاری عمارات پر 1000 میگاواٹ تک کے شمسی توانائی پیدا کرنے کے پلانٹس لگائے جائیں گے۔ مزید برآں B2B Solar Wheeling اور Mini Solar Grids کی تجاویز بھی زیرِ غور آئیں۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ ملک میں ٹیوب ویلز کی سولرائزیشن(Solarization) بھی کی جائے گی۔ اس سلسلے میں حکومتی فنڈنگ سے بلوچستان میں ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کا منصوبہ زیرِ غور ہے جس کے ذریعے سے صوبے میں 30 ہزار ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جائے گا۔
وزیراعظم نے سولر انرجی ٹاسک فورس کی تجاویز کو سراہتے ہوئے ہدایت دی کہ تمام صوبوں کو ان تجاویز سے آگاہ کرکے ان کی رائے لی جائے او ر اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ متبادل توانائی کے تمام منصوبوں میں صوبوں کی ہم آہنگی ہو۔
اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ یکم اگست کو قومی سولر انرجی پالیسی کا اعلان کیا جائے گا تاہم اس پالیسی کا نفاذ مشترکہ مفادات کونسل کی منظوری سے مشروط ہوگا۔ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ ہنگامی بنیادوں پر وزیراعظم ہاؤس اور وزیراعظم آفس کی عمارات شمسی توانائی پر منتقل ہوجائیں گی۔ اس سلسلے میں متعلقہ حکام کو احکامات جاری کردیئے گئے ہیں۔

