پاکستان

پاکستان سے قرض بحالی پروگرام کا معاہدہ طے: آئی ایم ایف

جولائی 14, 2022

پاکستان سے قرض بحالی پروگرام کا معاہدہ طے: آئی ایم ایف

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اعلان کیا ہے کہ اس کا پاکستان کے ساتھ قرض پروگرام کی بحالی کا معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت بورڈ کی منظوری کے بعد ایک ارب 17 کروڑ ڈالر کی قسط جاری کی جائے گی۔

جمعرات کو آئی ایم ایف کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس نے پاکستان کے ساتھ معطل شدہ قرض پروگرام کو بحال کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

’ایک سٹاف لیول معاہدے سے جو ابھی بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے، ایک توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے تحت تقسیم ہونے والی رقم چار ارب 20 کروڑ ڈالر تک پہنچ جائے گی جسے سات ارب ڈالر تک بڑھایا جا سکتا ہے اور اگلے سال جون تک توسیع دی جا سکتی ہے۔‘

سنہ 2019 2019 میں سابق وزیراعظم عمران خان نے چھ ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج پر دستخط کیے تھے تاہم جب ان کی حکومت نے سبسڈی کے معاہدوں سے انکار کیا اور ٹیکس وصولی کو نمایاں طور پر بہتر بنانے میں ناکام رہے، تو یہ پیکج تعطل کا شکار ہو گیا۔

یہ نیا معاہدہ شہباز شریف کی حکومت کی جانب سے کیے گئے سخت اقدامات کے بعد سامنے آیاہے۔ اپریل میں اقتدار سنبھالنے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے پیٹرولیم مصنوعات پرسبسڈی کو ختم کر دیا تھا اور ٹیکس وصولی کا دائرہ کار وسیع کرنے کے لیے نئے اقدامات متعارف کرائے۔

آئی ایم ایف ٹیم کے سربراہ ناتھن پورٹر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’پاکستان ایک مشکل معاشی موڑ پر ہے جس کے لیے بیرونی عوامل اور ملکی پالیسیاں ذمہ دار ہیں۔‘

وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بھی آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر معاہدے کی کاپی شیئر کی ہے۔

انہوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’آئی ایم ایم پاکستان کو ساتویں اور آٹھویں قسط کی مد میں ایک ارب 17 کروڑ ڈالر فراہم کرے گا۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے