پاکستان

آمنہ مسعود جنجوعہ نے جبری گمشدگی کی وبا کا کیا علاج بتایا؟

جولائی 14, 2022

آمنہ مسعود جنجوعہ نے جبری گمشدگی کی وبا کا کیا علاج بتایا؟

ڈیفنس آف ہیومن رائٹس(ڈی ایچ آر) کی چیئرپرسن آمنہ مسعود جنجوعہ نے ملک میں جبری گمشدگی کی وبا اور اسکے علاج کا نسخہ تجویز کر دیا۔

جمعرات کو چیئرپرسن ڈی ایچ آر،کابینہ کمیٹی برائے جبری لاپتہ افراد میں مدعو تھیں۔ اجلاس کی سربراہی وفاقی وزیر قانون اعظم نذیرتارڑ نے کی۔ اجلاس میں فیصل سبزواری ،اسرار ترین سمیت دیگر شریک ہوئے

آمنہ مسعود جنجوعہ نے اپنی کہانی بیان کرتے ہوئے پاکستان کے تمام دکھی جبری گمشدہ افراد اور ان کے لواحقین کی نمائندگی کی اپنے شوہر کے بارے میں بتایا کے 2005 میں راولپنڈی کے مشہور تعلیم دان اور بزنس مین, مسعود احمد جنجوعہ اور ان کے دوست فیصل فرازکی جبری گمشدگی کے بعد میں نے اس تحریک کا آغاز کیا،اس وقت میرے بچے چھوٹے چھوٹے تھے اور میرے والدین بوڑھے ہو چکے تھے ،گھر میں کمانے والا بھی کوئی نہ تھا۔

2005 سے لے کر آج تک میری جدوجہد چل رہی ہے جسے یہ17 سال ہو چکے ہیں اور مرتے دم تک میرا تمام لاپتہ افراد کے اہل خانہ سے عہد ہے کہ ان کے پیاروں کی رہائی اور بازیابی کے لیے ہر طریقہ اختیار کروں گی،کسی قربانی سے دریغ نہیں کروں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اس ملک میں ایک عجیب ماحول میں پہنچ چکے ہیں،17 سالوں میں بارہ چیف جسٹس صاحبان کے سامنے پیش ہو چکی ہوں جبکہ پانچ ‏ حکومتیں بدل چکی ہیں،پرویز مشرف ،اس کے بعد صدر زرداری صاحب کا دور آیا پھر نواز شریف صاحب اور اس کے بعد عمران خان صاحب اور اب شہباز شریف صاحب کا دور آگیا، پانچ ادوار میں دیکھ چکی ہوں، چار چیف آف آرمی سٹاف تبدیل ہوچکے ہیں ،اتنا کچھ ہوجانے کے باوجودجبری گمشدہ افراد کو انصاف نہیں ملا۔

کتنے چیف جسٹس گزر گئے،کتنی حکومتیں گزر گئیں مگر اس مسئلے کا کوئی مستقل ،ٹھوس اور نتیجہ خیزحل تلاش نہیں کیا جا سکا،اس لئے آج ملک کے ہر گوشے سے جو لوگ جبری گمشدہ ہیں ،کچھ کو خفیہ حراستی مراکز یا کچھ کو کسی جیل میں لے جایا گیا ہے مگر پھر بھی وہ جبری گمشدگی سے گزرے ہیں ،کوئی پانچ سال کوئی دو سال کوئی دس سال کال کوٹھری کی اذیت میں رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ایسا دکھ ہے جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اقوام متحدہ نے جبری گمشدگی کو انسانیت کے خلاف جرم قرادیا ہے۔ یہ جرم ہمارے ہاں سالہا سال سے دیدہ دلیری سے جاری ہے۔

آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ اس سارے ماحول میں، میں اور ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کی ٹیم بہت کچھ دیکھ چکے ہیں،افسوس اس بات کا ہے کہ تاریخ کے جس موڑ پہ ہم کھڑے ہیں اس میں فوج اسٹیبلشمنٹ ،جمہوری ادارے اور عوام کے نمائندے ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہیں،دونوں طرف سے بے یقینی ہے نفرت ہے، اعتبار نہیں ہے،انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں ،کہنے کو جمہوری حکومت ہے مگر جمہوریت نہیں ہے ،آئین کی بالادستی نہیں ہے ،آئین کا احترام نہیں ہے، اس سے پہلے کہ پانی سر سے گزر جائے بلکہ گزر چکا ہے لیکن اب بھی اگر ہم کوئی ایسے اقدامات اٹھائیں پاکستان کی مظلوم ماوں کے دکھوں کو دور کردیں ،اگر ہم ان کو خوشیاں دے سکیں تو میں سمجھتی ہوں یہ ہماری کامیابی ہوگی۔

تمام اسٹیک ہولڈرز کو یہ تہیہ کرنا ہوگا کہ جب تک یہ مسئلہ مکمل طور پر حل نہیں ہوتاوہ چین سے نہیں بیٹھیں گے،ہم سب کو مل کر بیٹھنا ہوگا اسٹیک ہولڈرز, متاثرین, انٹیلی جنس ادارے اور آرمڈ فورسز, حکومت اور انتظامیہ ہم سب کو مل کر یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا ہم ایسا پاکستان چاہتے ہیں جس میں ایک دوسرے کو گالی دی جاتی ہو؟ ایک دوسرے سے نفرت کی جاتی ہو؟سیاست دان ایک دوسرے سے الجھے رہیں اور انسانی حقوق سے متعلق معاملات پر بات نہ ہو؟ یہ کیا ماحول بن چکا ہے؟کیا قائد اعظم نے اس لئے پاکستان بنایا تھا کہ یہاں پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوں؟ کیا ایسا پاکستان بنایا تھا جس میں گھروں سے شہری لاپتہ کئے جائیں؟اور زندان میں مار دیئے جائیں َ،والدین گزر جائیں مگر ان کے بچے واپس نہ آئیں؟ ان کی لاشیں سڑکوں سے ملیں، سپریم کورٹ ،ہائی کورٹ ،پشاور ہائی کورٹ، اسلام آباد ہائی کورٹ ، لاہور ہائی کورٹ یہ سب سالوں کیسز چلانے کے باوجود اس مسئلہ کا حل نہ کر سکیں؟ کیا یہ انصاف ہمیں چاہیے تھا؟ تو آج میں آپ کو صرف یہی کہوں گی کہ اس کا حل ناممکن نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کا حل بہت آسان ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ کو سنجیدگی سے یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ چیف ایگزیکٹو کو 9 ستمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں بلا لیا گیا ہے،چیف ایگزیکٹیو شہباز شریف صاحب کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہمیں یہ مسئلہ مکمل طور پر حل کرنا ہے ،اس کے لئے ہمیں کچھ بھی کرنا پڑے ،قانون سازی, کمیٹیاں, کمیشنز, تحریکیں, عدالتی کاروائیاں کچھ نہیں کر سکیں ،بہت معمولی سے نمبر کو انصاف ملا مگر ہم مکمل انصاف چاہتے ہیں، تمام لوگوں کے لیے چاہے ان کا تعلق ملک کے کسی بھی صوبے کسی بھی شہر کسی بھی علاقے سے ہو ،تو ایسے انصاف کے لئے چیف ایگزیکٹو آرمڈ فورسز اور پاکستان کی عوام کو آن بورڈ آنا ہوگا، ہمیں ان اداروں سے جو انصاف کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں سے نجات حاصل کرنی ہوگی اور اس میں کمیشن آف انکوائری کا نمبر سب سے پہلا ہے ،ہمیں سب سے پہلے کمیشن سے نجات حاصل کرنی ہوگی ان کے سربراہ کا کردار سامنے آ چکا ہے اور یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں تھی سب جانتے تھے مگر بے حسی اور غیر ذمہ داری سے چلے جا رہے تھے ،اس کمیشن کو فوری بند کر کے ایک ایسا سچائی اور مفاہمت کمیشن بنانا ہوگا جس میں معافی دی جائے گی۔

چیئرپرسن ڈی ایچ آر نے کہا کہ جبری گمشدہ افراد اپنے ملک سے محبت کرتے ہیں، اپنی حکومت اور پاکستان سے محبت کرتے ہیں،وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہماری بات سنی جائے ،ہمارے دکھوں کا کوئی مداوا کیا جائے ،ہمیں سچ بتا دیا جائے کہ ہمارے پیارے کہاں ہیں اور ان پر کیا گزری ،اگر وہ زندہ ہیں تو ہمیں ان کا جرم بتا دیں اور ان کو عدالتوں میں لے آئیں ،ان کا قصور بتائیں اور اگر وہ زندہ نہیں ہیں تو ہمیں بتائیں کہ وہ کہاں پر دفن ہیں ،ان کو معقول اور بین الاقوامی معیار کے مطابق زر تلافی دیا جائے،مجھے آج تک ایسی کوئی فیملی نہیں ملی جس نے کہا ہو کہ ہم نے بدلہ لینا ہے ،تمام لوگ معاف کر دیں گے مگر پہلا قدم افواج پاکستان کو اور انٹیلی جنس اداروں کو اٹھانا ہوگا،ملک کی اپنی عزت اور وقار کا سوال ہے ،آپ کی قربانیاں ہیں آپ کی خدمات ہیں اس کے بدلے میں آپ ہم سے کچھ نہیں چاہتے ہیں سوائے اس کے کہ عوام افواج کی عزت کرے اور ان کی حوصلہ افزائی کرے یہی دو چیزیں ناپید ہو چکی ہیں ،اس نفرت کے ماحول میں آپ کو احسن اقدامات کرنے ہوں گے ،جبری لاپتہ افراد کے لواحقین کو انصاف دینا ہوگا ،تمام لواحقین کو ان کے پیارے واپس دینے ہونگے،ایسے اقدامات کرنے ہونگے جس سے ان کو دعائیں ملیں, ماؤں کے دل خوش ہو جائیں, بہنوں کے بھائی واپس آ جائیں ،جو بچے یتیموں جیسی زندگی گزار رہے ہیں ان کے باپ اور بیویوں کے سروں کے سرتاج واپس آئیں.

کہنے کو بہت کچھ ہے مگر میری تجویز مختصر اور جامع یہی ہے کہ جبری گمشدگی کا سلسلہ روکا جائے اور لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے۔ ویسے تو قانون سازی بھی ہو سکتی ہے اور بھی تجاویز ہو سکتی ہیں مگر اگر سب سے پہلے اس لسٹ کو جو بڑھتی جا رہی ہے رکنے میں نہیں آ رہی ،جبری گمشدہ افراد کی لسٹ کو روکنا ہوگا ،اس کے بعد اس لسٹ کو ختم کرنا ہوگا اور ہر ایک کیس کو حل کرنا ہوگا ہر ایک کے بارے میں سچائی سے اقرار کرنا ہوگا۔ سچائی اور مفاہمتی کمیشن ان کیمرہ بھی یہ کاروائی کر سکتا ہے جس سے افواج پاکستان کے اداروں کو آسانی ہوگی, کمرے میں بیٹھ کے عام معافی جب آپ کو ملے گی تو آپ کو سچ بتانا ہوگا, صرف سچ, اور سچ بتانے کے بعد آپ کو بین الاقوامی معیار کے مطابق کمپنسیٹ کرنا ہوگا ،ان کو بھی جو سالوں سال سے جبری گمشدہ ہیں اور وہ کہیں نہ کہیں تہہ خانوں میں قید ہیں اور ان کے لئے بھی تو شاید اس دنیا میں نہیں رہے.

آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ پچھلی تمام حکومتییں ذمہ دار ہیں اوراسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ صاحب نے کہہ دیا ہے کہ پاکستان میں لوگوں کو جبری گمشدہ کرنا ریاستی پالیسی بن گئی ہے۔

لاپتہ افراد کا موجودہ کمیشن ناکام ہوچکا ہے ،اس کا کام لوگوں کے دکھوں اور مصیبتوں کو بڑھانا ہے یہ بھی جسٹس اطہر من اللہ صاحب نے کہہ دیا ہے تو اب ہمیں ایسے مفاہمتی اقدامات کرنے ہونگے جس سے ہمیں وہ ادارے جو انصاف کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں ان سے نجات حاصل کی جائے، تمام حکومتیں جواب دہ ہیں, موجودہ حکومت سب سے زیادہ جواب دہ ہے کیوں کہ یہ اقتدار میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عابد شریف منصور مہدی فیصل فراز ،الطاف علی شاہ ،مدثر نارو،د”صادق امین ،زاہد امین،غلام قادر ،عبداللہ عمر، ڈاکٹر عمر آواب, بلوچستان سے لاپتہ تمام کیسز رزاق بلوچ ،حفیظ بلوچ ،فیروز بلوچ اور باقی تمام جبری گمشدہ افراد تمام کیسز کی جواب دہی کرنی ہوگی اور ان کو انصاف دینا ہوگا سب کے ورثاء کے آگے یہ حکومت جواب دہ ہے اور وہ لوگ جو انٹرمنٹ سنٹرز میں ہیں جن کی چیخیں بھی ہم تک نہیں پہنچتیں جو کہ پاکستانی گوانتانامو میں پراسرار بیماریوں سے شہید ہو رہے ہیں ہیں اور تین سو لاشیں جن اہل خانہ نے وصول کی ہیں, وہ لوگ جو کبھی گم شدہ تھے مگر اب مختلف جیلوں مثلا ساہیوال جیل پشاور سنٹرل جیل، اڈیالہ جیل لاہور ،سنٹرل جیل کراچی ،سینٹرل جیل مردان اور ہری پور کے وغیرہ میں آگئے ہیں اور ان پر پر جیلوں میں ظلم روارکھا جا رہا ہے ہمیں ان سب کی آواز بننا ہے ،ہم اس حکومت سے ، اس کمیٹی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان تمام کے دکھوں کا ازالہ کیا جائے، ان تمام لوگوں کو انصاف دلایا جائے، ان تمام کے مسئلے حل کئے جائیں جس طرح اقوام متحدہ کے کنونشن میں لکھا ہے ہے اسی جذبے کے ساتھ ہم کو یہ مسئلہ حل کرنا پڑے گا،

آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ وہ لوگ جو حکومتی اداروں میں ہیں اور جبری گمشدگی میں ملوث ہیں انکا اور حکومت کا فرض ہے کہ سچائی کے ساتھ اس بات کی گارنٹی دیں کہ دوبارہ ایسا نہیں ہوگا اور اس بات کی گارنٹی کہ لواحقین کو مناسب معاوضہ دیا جائے گا ،ان کے نفسیاتی علاج کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی،ان کو طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی ،ان کے بچوں کے تعلیمی نقصان کا ازالہ کیا جائے گا ،یہ تمام چیزیں جو ایک انٹرنیشنل لاء میں موجود ہیں پاکستان کو اپنا حصہ بنانی ہوں گی اور اس لسٹ کو ختم کرنے کے بعد پاکستان کبھی بھی دوبارہ جبری گمشدگی کی طرف قدم نہیں بڑھائے گا،یہی حل ہے اس مرض کہن کا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک دفعہ لسٹ ختم کرنے کے بعد یہ پاکستان کا قانون بن جائے کہ کبھی بھی کوئی شخص جبری گمشدہ نہیں ہوگا ،اگر کوئی الیگشن ہے ،اگر سیکورٹی تھریٹس ہیں تو سپیشل کورٹس میں لایا جائے اور ان کو انصاف دلایا جائے ،جبری گمشدگی ہرگز قابل قبول نہیں ہے۔ اگر انڈیا ایسا کرسکتا ہے تو پاکستان ایسا کیوں نہیں کر سکتا, اگر سری لنکا جیسا چھوٹا ملک ایسا کر سکتا ہے تو پاکستان کیوں نہیں کر سکتا ،اگر فلپائن ایسا قانون بنا سکتا ہے تو پاکستان کیوں نہیں؟
ہمارے ملک میں کئی گناہ زیادہ صلاحیتیں ہیں ،ہمارے اداروں کو پر ہمارا اعتماد برقرار ہے ،خدارا اس کو ختم نہ ہونے دیں ،اس سے پہلے کہ ملک میں سول وار حل بن جائے ،اس سے پہلے کہ نفرتوں کا کوئی حساب ہی نہ رہے اور ہر طرف بدظنی اور نفرت کا ماحول پیدا ہو جائے اور خانہ جنگی کی کیفیت پیدا ہو جائے ،خدارا آپ ایسے فیصلے کر کریں جو آئندہ نسلوں کے لئے بھی بہتر ہوں اور ہماری دکھی ماؤں اور بہنوں کے لئے بھی بہتر ہوں۔

آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ یہ پاکستان ہم نے مل کر بچانا ہے ،اس میں کسی بھی طرح کی خدمات کے لیے میں اور میری ٹیم حاضر ہیں, ہمارے لاپتہ افراد کے لواحقین بھی اس میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں تاکہ یہ معاملہ حل ہو ، کوئی بدلہ نہیں لینا ،ہم ملک کی سلامتی چاہتے ہیں ہم ملک کی عزت اور وقار بحال کرنا چاہتے ہیں جو کہ گم چکا ہے،ہمارے ملک کی عزت ختم ہو چکی ہے ،اس سب کے لیے تمام جبری گمشدہ افراد کو واپس لانا ہوگا ،میں اپنی تین کی خدمات پیش کرتی ہوں کہ ہم آخری دم تک حکومتوں کا ساتھ دیں گے چاہے جو بھی حکومت ہو اور اپنی افواج کے ساتھ دیں گے ،ہم سچائی اور مفاہمتی کمیشن کی بات کرتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں جہاں لگن ہوتی ہے وہاں خودبخود راہ کھل جاتی ہے اور منزل حاصل ہو جاتی ہے۔

کہنے کو باتیں بہت ہیں ،عدالتی کاروائیاں بھی بہت ہیں, تحریکیں بھی بہت چلائیں, اور چلتی رہیں گی ،عدالتی کاروائیاں بھی چلتی رہیں گی.
آج اگر وزیراعظم کو بلانے کا آرڈر ہوا ہے تو کل کسی اور کو بھی بلایا جا سکتا ہے۔

جو بات اہمیت رکھتی ہے وہ یہ ہے کہ جو کام چند جبری گمشدہ افراد سے شروع ہوا تھا صرف مسعود اور فیصل سے شروع ہوا تھا وہ ہزاروں میں کیسے تبدیل ہو گیا؟ کمیشن میں پہلے مجھے صرف 135 لاپتہ افراد کے کیس تھے توہ دس ہزار میں کیسے ہو گئے؟ جو چند افراد تھے وہ کیسے ہزاروں میں بدل گئے ؟اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے کوئی اقدامات نظر نہیں آ رہے، اس لئے ہم اس موجودہ کمیشن کے خلاف ہیں ،یہ کمیشن کچھ نہیں کر سکتا،آپ کو تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بیٹھ کے فوری اور ہنگامی اقدامات کرنے ہونگے۔

چیئرپرسن ڈی ایچ آر نے آخر میں فیکٹ شیٹ بھی پیش کی جس میں ٹوٹل لاپتہ افراد کی تعداد2896 تھی اور ٹریس شدہ افراد کی تعداد 220 ، فوت شدہ کی تعداد79 تھی اور رہا شدہ افراد کی تعداد 533 تھی۔

وفاقی وزیر قانون اعظم تارڑ نے آمنہ مسعود جنجوعہ کو سراہتے ہوئے کہا کہ آپ نے بہت اچھی تجاویز پیش کی ہیں، آئندہ بھی ہم سب مل کر اس مسئلے کا مستقل حل تلاش کریں گے،اگلی دفعہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن،ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشنز ، متعلقہ اداروں اور سول سوسائٹی کو بھی مدعو کیا جائے گا اور دوبارہ آپ کو اجلاس میں شامل کیا جائے گا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے