عمران خان کا بلیک میل ہونے اور ایجنسیوں کے ذریعے حکومت چلانے کا اعتراف
پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ دوران حکومت ان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے اور انہیں بلیک میل بھی کیا گیا۔
سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب جاری ہونے والے ایک ویڈیو پیغام میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے کولیشن پارٹنرز تھے، اس لیے بلیک میل ہوتے تھے۔‘
انہوں نے کہا ’بجٹ یا کوئی بل پاس کرانا ہوتا تو اتحادیوں کی منتیں کرنا پڑتیں۔‘
عمران خان نے کہا کہ ایجنسیز کو کہنا پڑتا تھا کہ ان کو ووٹ ڈالنے کے لیے اسمبلی میں لائیں۔
ان کے مطابق ’ایک عذاب سے گزرے تھے۔‘
انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ضمنی الیکشنز کے لیے نکلیں۔
ان کا کہنا تھا کہ نوجوان ملک کا 60 فیصد ہیں اور مستقبل ان کا ہے۔
’کئی بار نوجوان ووٹ نہیں ڈالتے، میں چاہتا ہوں آپ صبح سات بجے پولنگ سٹیشنز پر ہوں، چاہے بارش ہو رہی ہو یا جو بھی ہو۔‘
عمران خان نے نوجوانوں سے کہا کہ ’سب نے جلدی جا کر ووٹ ڈالنے ہیں اور پھر پولنگ سٹیشنز پر کھڑے ہو جانا ہے، میں چاہتا ہوں سب کو پتہ چلے کہ قوم کسی قسم کی دھاندلی برداشت نہیں کرے گی۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ضمنی الیکشنز کے موقع پر 2018 کے الیکشن سے بھی زیادہ جوش دیکھا ہے جس میں سوشل میڈیا کا بڑا کردار ہے جبکہ ٹک ٹاک نے بھی بڑا کمال کیا ہے۔‘
انہوں نے ایک بار پھر بیرونی سازش کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں مجرموں کی حکومت آئی ہے، جس کی کابینہ کا 60 فیصد ضمانتوں پر ہے۔
عمران خان نے وزیراعظم اور وزیراعلٰی پنجاب کو ’غیرقانونی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان پر 16 ارب کی کرپشن کے کیسز تھے، یہ انڈرٹرائل تھے اور سزا ہونے والی تھی۔

