افواج پاکستان کے ممبران کے لیے اپیل کا حق کیوں ضروری؟
رستم اعجاز ستی/اسلام آباد
فوجی قوانین سے واقف ایڈووکیٹ کرنل(ر)انعام الرحیم نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ جلد آرمی ایکٹ میں ایک ترمیم کے ذریعے افواج پاکستان کے ممبران کو باضابطہ طور پر اپیل کا حق دے دیا جائے گا،اس سلسلے میں ہماری وزارت قانون سے مشاورت جاری ہے۔
ایکس سروس مین لیگل فورم کے کنوینر ایڈووکیٹ انعام الرحیم نے پس منظر بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا پہلا دستور پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد 1956 میں نافذ کیا گیا۔ دستور کے آرٹیکل 170 کے تحت ہر شہری کو یہ حق دیا گیا تھا کہ وہ اپنے بنیادی حقوق کے نفاذ کیلئے متعلقہ ہائیکورٹ سے رجوع کر سکتا ہے۔ یہاں تک کے افواج پاکستان کے ملازمین بھی اپنے حقوق کیلئے اسی آرٹیکل کے تحت اعلی عدالتوں سے رجوع کر سکتے تھے۔
وطن عزیز کی بدقسمتی دیکھئے کہ گورنر جنرل سکندر مرزا اور کمانڈر انچیف ایوب خان نے 1956 کے متفقہ آئین کو منسوخ کرتے ہوئے ملک پر قبضہ کر لیا۔یہ آئین مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے منتخب نمائندوں نے منظور کیا تھا۔ اس آئین کی منسوخی سے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی بنیاد رکھ دی گئی۔ اگلے چھ برس وفاق پاکستان کے معاملات جرنیل بغیر کسی دستور اپنی مرضی سے چلاتے رہے جس نے وفاقی اکائیوں کے درمیان بد اعتمادی کی ایک خلیج پیدا کر دی۔
ملک میں سول سوسائٹی ،وکلا اور سیاسی ورکروں کی طرف سے مسلسل یہ آواز اٹھائی جاتی رہی کہ1956 کا متفقہ آئین بحال کیا جائے مگر ایوب خان نے بجائے آئین بحال کرانے کے،اپنے وزرا اور مشیروں کا اجلاس طلب کر لیا۔وہ ایک نیا آئین متعارف کرانے کیلئے تیار ہو گئے مگر اس سلسلے میں انہوں نے اپنے دو خدشات کا اظہار کیا کہ آئین نافذ ہونے کی صورت میں وہ صدر تو منتخب ہو جائیں گے مگر ان کی وردی اتر جائے گی اور اگر وردی اتر گئی تو فوج کے جرنیلوں کو کیسے کنٹرول کریں گے اور دوسرا فوج ہی کے ملازمین اعلی عدالتوں میں ان کے آڈر چیلنج کرتے پھریں گے اور یہ بات ان کے لئے ناقابل برداشت تھی۔
چیف جسٹس آف پاکستان منیر احمد اس وقت ریٹائر ہو چکے تھے اور وہ ان معاملات میں صدر مملکت کو مشاورت فراہم کرتے تھے۔ ایوب خان کے ان ذہین و فطین مشیروں نے صدر کو یقین دلایا کہ کابینہ ان کو فیلڈ مارشل کا رینک عطا کر دے گی اور کیونکہ فیلڈ مارشل کبھی ریٹائر نہیں ہوتا اسلئے وہ صدر مملکت کے ساتھ ساتھ فیلڈ مارشل رہیں گے اور انہیں کبھی بھی وردی نہیں اتارنا پڑے گی۔دوسرا انہوں نے کہا کہ آئین میں ایسا آرٹیکل متعارف کرا دیا جائے جس کی وجہ سے آرمی کا کوئی بھی ملازم اپنے سروس کے معاملات میں اعلی عدالتوں سے رجوع نہ کر سکیں۔ یوں آرٹیکل(3)98 کے زریعے سے افواج پاکستان کے ممبران پر اعلی عدالتوں کے دروازے بند کر دیئے گئے اور انہیں اپنے بنیادی حقوق سے محروم کر دیا گیا۔
ویسے تو چیف آف آرمی سٹاف کسی بھی افسر کو ملازمت سے برطرف یا ریٹائر کرنے کا اختیار نہیں رکھتا مگر جنرل ایوب نے بحیثیت صدرمملکت افسران کی برطرفی،تنزلی اور جبری ریٹائرمنٹ کے اختیارات خود سنھبال لئے اور فوج میں بے شمار افسران کو ناپسندیدہ قرار دے کر گھر بھجوا دیا جو ایوب خان کے لائے گئے آئین کے آرٹیکل (3)98 کی وجہ سے کسی بھی عدالت سے رجوع نہ کر سکے اور یوں دنیا کی بہترین فوج کو غلام بنا کر رکھ دیا گیا جو اپنے چیف سے کوئی سول بھی نہیں پوچھ سکتے تھے۔
کرنل(ر)انعام الرحیم کے مطابق اسکے بعد عوام کی مدد سے جیتی ہوئی1965 کی جنگ جب ایوب خان تاشقند کی میز پر ہار گئے تو ان کے خلاف ملک بھر میں نفرت کا ایک طوفان کھڑا ہو گیا۔ پورے ملک میں ہنگامے پھوٹ پڑے اور ان کا اقتدار میں ٹھہرنا ناممکن ہو گیا تو اپنے ہی آئین کے مطابق وہ پابند تھے کہ اقتدار پارلیمان کے سپیکر کے حوالے کرتے اور وہ الیکشن کرواتے مگر چونکہ اس وقت پارلیمان کے سپیکر فضل القادر چوہدری تھے جن کا تعلق مشرقی پاکستان سے تھا اور ہماری اشرافیہ عارضی اقتدار بھی بنگالیوں کو دینے کیلئے تیار نہ تھی اسلئے انہوں نے اپنے ہی آئین کو توڑتے ہوئے اقتدار جنرل یحی کے حوالے کر دیا۔
اب بنگالیوں کو یقین ہو گیا کہ پاکستان کی فوج انہیں ہمیشہ غلام رکھے گی اور کبھی اقتدار میں نہیں آنے دے گی۔ یہی سوچ تھی جس کی وجہ سے شیخ مجیب کو مشرقی پاکستان میں کامیابی ملی مگر ہم اس کو اقتدار دینے کیلئے تیار نہ تھے اور یوں پاکستان ٹوٹ گیا اور ہمارے 90 ہزار فوجیوں کو اپنے ہی وطن میں اپنوں سے لڑتے ہوئے ہتھیار ڈالنے پڑے۔ یحیی خان کو اقتدار سے علیحدہ ہونا پڑا اور بھٹو صاحب پہلے سویلین مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بن گئے کیونکہ بھٹو صاحب نے آتے ہی درجنوں کے حساب سے جرنیلوں،ایئر مارشلز اور ایڈمرلز کو گھر بھجوا دیا اور وہ یہ بھی نہیں چاہتے تھے کہ فوج کا کوئی افسر ان کے کسی بھی حکم کو چیلنج کر سکے لہذا انہوں نے 1973 کے آئین میں آرٹیکل (3)199 متعارف کروایا تاکہ کوئی بھی فوج کا ملازم اپنے بنیادی حقوق کیلئے عدالت سے رجوع نہ کر سکے اور (5)199 کے زریعے فوجی عدالتوں کو یہ استثنی بھی دے دیا گیا کہ کورٹ مارشل کی سزا کو کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا بلکہ آئین میں 1974 میں پہلی ترمیم متعارف کروائی کہ اگر کسی سویلین کو بھی فوج،آرمی ایکٹ کے تحت گرفتار کرے تو وہ سویلین بھی عدالت عالیہ سے رجوع نہیں کر سکتا۔
دراصل یہ شق ریٹائر افسران کو قابو کرنے کیلئے متعارف کروائی گئی تھی مگر بدقسمتی سے یہی پہلی ترمیم بھٹو صاحب کیلئے بھی موت کا پھندا ثابت ہوئی۔جب جنرل ضیا الحق نے بھٹو صاحب کو گرفتار کیا تو بھٹو صاحب کی گرفتاری کو سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا،جس پر سندھ ہائیکورٹ کے جج نے بھٹو صاحب کے وکیل سے مخاطب ہو کر کہا کہ بھٹو صاحب کی متعارف کردہ ترمیم کے تحت ہم فوج سے بھٹو صاحب کی گرفتاری کے بارے میں نہیں پوچھ سکتے اور یوں ان کی درخواست مسترد کر دی گئی اور بعد میں ایک اور مقدمے میں ان کو سزائے موت دے کر راستے سے ہٹا دیا گیا۔
ایڈووکیٹ انعام الرحیم کا کہنا تھا کہ اٹھارویں ترمیم کے دوران ہم نے ایک درخواست رضا ربانی صاحب کو بھجوائی جو پارلیمنٹ کی کمیٹی کے چیئرمین تھے کہ آئین میں سے (5) اور (3) 199 کو نکالا جائے تاکہ افواج پاکستان کے ممبران کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہو سکے۔ فوج کے دباؤ کی وجہ سے(5) اور (3)199 کو تو نہ نکالا جا سکا مگر انہوں نے آئین میں آرٹیکل 10-A متعارف کروا دیا جس کے تحت ہر شہری بشمول افواج پاکستان کے ہر فرد کو شفاف ٹرائل کا حق دیا گیا اور اس کے خلاف کسی بھی کارروائی کیلئے تمام قانونی تقاضے پورے کرنا لازمی قرار دیا گیا۔
Right of fair trial and due process of law
یہ ایک پہلا قدم تھا تا کہ لوگ اپنے حقوق کیلئے عدالتوں سے رجوع کر سکیں۔ 2021 میں لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم صاحب نے افواج پاکستان کے دو عہدیداران کو دی جانے والی سزا کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے یہ حکم دیا کہ افواج پاکستان کے افراد کو بھی باقاعدہ اپیل کا حق دیا جائے اور انہوں نے اپنے فیصلے میں مزید لکھا کہ اپیل کے حق سے انکار اسلام کے نظام عدل کے بھی خلاف ہے۔ انہوں نے وزارت قانون کو حکم دیا کہ اس سلسلے میں فوری قانون سازی کی جائے اور افواج پاکستان کے تمام ممبران چاہے ان کا تعلق بری،بحری اور ہوائی افواج سے ہے کو باقاعدہ اپیل کا حق دیا جائے۔
محکمہ دفاع کی طرف سے بھی اس اپیل کے حق کو ضروری سمجھتے ہوئے اس فیصلے کے خلاف کوئی اپیل دائر نہیں کی گئی اور یہ فیصلہ حتمی ہو چکا ہے۔
کرنل (ر) انعام الرحیم کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں ہماری وزارت قانون سے مشاورت جاری ہے اور امید ہے کہ عنقریب آرمی ایکٹ میں ایک ترمیم کے زریعے با ضابطہ طور پر اعلی عدالتوں میں اپیل کا حق دے دیا جائے گا اور یہ آئین کی بالا دستی اور قانون کی حکمرانی کی طرف ایک اہم قدم ہو گا۔

