ضلعی انتظامیہ کی نا اہلی،مسافروں اور پبلک ٹرانسپوٹرز میں لڑائی جھگڑے معمول
جڑواں شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ کے کرائے ناموں کے عدم اجراء کے باعث مسافروں اور ٹرانسپوٹروں کے درمیان لڑائی جھگڑے معمول بن گئے۔
پبلک ٹرانسپوٹروں نے کرایوں میں من مانا اضافہ کر دیا اور کسی گاڑی میں ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ کرایہ نامہ آویزاں نہیں۔من مانے کرائے کی وصولی،خواتین اور معمر مسافروں کیساتھ ٹرانسپوٹرز کی بدتمیزی اور لڑائی جھگڑا روزانہ کا معمول ہے۔
دونوں شہروں کے متعلقہ حکام ساری صورت حال سے آگاہی کے باوجود لاتعلقی کے جزیرے پر بیٹھے ان مناظر سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق جڑواں شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ کے مختلف روٹس پر کرایوں میں من مانا اضافہ کر دیا ہے۔روٹ نمبر 110چھتر تا پیرو دہائی تک کا کرایہ 110 روپے وصول کیا جا رہا ہے جبکہ اسی روٹ کے درمیان بہارہ کہو سے فیض آباد تک کا کرایہ 80 روپے وصول کیا جا رہا ہے جبکہ ایک سال یہ کرایہ 22 روپے تھا۔
پبلک ٹرانسپورٹ کے دیگر روٹ نمبر127,21,136,124 سمیت دیگر میں بھی یہی صورت حال ہے۔
مسافروں کا کہنا ہے کہ کسی بھی گاڑی میں کرایہ نامہ آویزاں نہیں۔مہنگائی ضرور بڑھی ہے لیکن اسی کے تناسب سے کرایہ بڑھنا چاہئے جبکہ یہاں بہت ذیادہ کرایوں میں اضافہ کیا گیا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جڑواں شہروں کی ضلعی انتظامیہ کو کوئی منصفانہ فارمولا وضع کرنا چاہئے اور اسکے تحت کرائے ناموں کا اجرا کرنا چاہئے لیکن متعلقہ حکام گہری نیند سوئے ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ منصفانہ کرائے ناموں کا اجرا کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے لیکن حکام اپنا کام ہی نہیں سر انجام دے رہے۔ اگر ایسا نہیں ہو سکتا تو ضلعی انتظامیہ کے متعلقہ ادارے بند کر دیئے کیونکہ انہیں عوام کی محنت کی کمائی سے وصول کردہ ٹیکسوں سے تنخواہ لینے کا کوئی حق نہیں۔
مسافروں کا کہنا تھا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو گدھے گاڑی والے بھی کرائے بڑھا دیتے ہیں لیکن کمی کے ثمرات لوگوں کو نہیں منتقل کئے جاتے۔
انہوں نے جڑواں شہروں کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ کوئی منصفانہ فارمولا وضع کر کے فوری کرائے نامے جاری کئے جائیں اور انہیں پبلک ٹرانسپورٹ میں آویزاں کیا جائے۔

