چیف جسٹس کے بینچ بنانے اور مقدمات مقرر کرنے کے اختیارات کو محدود کیا جائے: وکلا تنظیمیں
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور پاکستان بار کونسل نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قانون سازی کے ذریعے چیف جسٹس کے بینچ تشکیل دینے اور مقدمات مقرر کرنے کے صوابدیدی اختیارات کو باضابطہ طریقہ کار کی حدود میں لائے۔
بدھ کو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون نے کہا کہ اعلی عدلیہ میں ججز کے تقرر کے طریقہ کار میں شفافیت لانے کی ضرورت ہے۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور پاکستان بار کونسل کے مشترکہ اجلاس میں عدالت عظمی میں ججز کے تقرر کے لیے جوڈیشل کمیشن کے جمعرات کو بلائے اجلاس پر تحفظات کا اظہار کیا گیا۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسی نے بھی جوڈیشل کمیشن کا اجلاس موخر کرنے کیلئے چیف جسٹس کو مراسلہ ارسال کیا ہے اور ججز تقرری میں چیف جسٹس کی عجلت کو سوالیہ نشان قرار دیا ہے۔
بعد ازاں احسن بھون نے پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی متفقہ قرارداد بارے بتایا کہ ہم ججز تقرری میں سنیارٹی کے اصول کی خلاف ورزی کو نہیں مانتے۔مطالبہ ہے کہ رولز میں ترمیم کی جائے تاکہ اعلی عدلیہ میں ججز تقرری کے عمل میں شفافیت ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ پچھلے دس سال سے بار کونسلزاور بار ایسوسی ایشنز کا مطالبہ رہا ہے کہ (3)184 میں سوموٹو اختیار کہ پیرا میٹر سٹکچر تشکیل دیا جائے۔اس معاملے میں متاثرہ فریق کواپیل کا حق ہونا چاہئے۔ رائٹ آف اپیل کا بینچ اس بینچ سی بڑا ہو جو فیصلہ دے۔ ایسے تمام مقدمات میں متاثرہ فریق کو اپیل کا حق دیا جائے۔ بھی کیسز ہیں رائٹ آف ایل دیا متاثرہ فریق کو دیں۔
احسن بھون کا کہنا تھا کہ نظرثانی اپیل میں وہی وکیل اور وہی بینچ بھی آئین کے آرٹیکل (a)10 کے منافی ہے۔
بینچ کی تشکیل پانچ سینئر ترین ججز کا اختیار ہونا چاہئے۔ چیف جسٹس کے کیس فکس کرنے اور بینچ بنانے کے اختیار کو ریگولیٹ کیا جائے۔بینچ بنانا پانچ سینئرترین ججز کی صوابدید ہونی چاہئے۔
ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف ریفرینس بدنیتی پرمبنی تھا اور یہ بات سب نے تسلیم کی لہذا متفقہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ قاضی فائز عیسی کے خلاف نظرثانی اپیل فی الفور واپس لی جائے۔

