اب پارلیمان ججز کے اختیار کا فیصلہ کرے گی: بلاول بھٹو زرداری
پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دو پاکستان اور دو آئین نہیں ہو سکتے، ایسا نہیں ہوسکتا کہ ایک مہینہ پہلے کہا جائے کہ پارٹی لیڈر اور ایک مہینے بعد پارلیمانی لیڈر، لاڈلے کے لیے الگ اور ہمارے لیے الگ آئین نہیں ہوسکتا۔
بدھ کو قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ہمارا کام آئین بنانا ہے، اُن کا کام خود سے آئین میں ترمیم لانا نہیں، تین ججز بیٹھ کر آئین تبدیل نہیں کر سکتے، سپریم کورٹ صرف چیف جسٹس کا نام نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے، اور قانون سازی کی جائے، ہم فیصلہ کریں گے کہ کتنے ججوں کو بیٹھنا چاہیے، ثاقب نثار متنازع کردار ہے، سنہ 2018 میں ہمارے خلاف مہم چلاتا رہا۔
انہوں نے کہا کہ کیا ایک رات نیوٹرل ہونے سے 70 سال کے گناہ معاف ہوجائیں گے ؟ کیا 70 سال کی آئین شکنی معاف کردیں ؟ کیا یہ ممکن ہے کہ چار سال معاشی، جمہوری اور خارجہ پالیسی کا بحران شہبازشریف تین مہینے میں ٹھیک کر دیں، کیا شہبازشریف کے پاس جادو کا چراغ ہے ؟ شہبازشریف جھوٹ نہیں بولیں گے، لوگوں کو لاوارث نہیں چھوڑیں گے۔ 70 سال کا قرض ایک طرف اور عمران خان کے 4 سال کا قرض ایک طرف ہے۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ چار سال کا گند 3 مہینے میں صاف نہیں کرسکتے، آئین شکنی اور جمہور شکنی کام کہیں سے بھی ہوا ہو، اب ہماری ذمہ داری ہے کہ انصاف کریں، اگر یہ کام نہیں کرسکتے تو قومی اسمبلی کو تالہ لگادیں، وقت آگیا کہ جمہوریت کے لیے قانون سازی کریں، آئین کا دفاع کرنے کے لیے قانون سازی کریں، پارلیمان میں طاقت ہے کہ پاکستان کا ہر مسئلہ حل کر سکتے ہیں، جناب سپیکر آج ہی پارلیمانی کمیٹی بنائیں، ایک پاکستان میں دو آئین نہیں چل سکتے۔
انہوں نے کہا کہ نوازشریف کو 2013 میں 2 تہائی اکثریت تھی، لیکن ان کے دور میں عدالت کا کردار نامناسب تھا، دو تہائی اکثریت والے وزیراعظم کو گھر بھیج دیا گیا، اور الیکشن میں کچھ ججوں کا کردار ایسا تھا کہ جیسے وہ خود الیکشن لڑ رہے تھے۔

