جوڈیشل کمیشن اجلاس کے آخری لمحات کی آڈیو میں دلچسپ انکشافات
جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کی آخری پانچ منٹ کی آڈیو کہانی سے کچھ دلچسپ انکشافات ہوتے ہیں۔
جسٹس قاضی فائز عیسی سنیارٹی اصول کی خلاف ورزی سے پیدا ہونے والی صورتحال پر بات کر رہے تھے۔ جسٹس عیسی نے کہا کہ ججوں کی تعیناتیوں کیلئے نامزدگیوں کا اختیار صرف چیف جسٹس کا نہیں بلکہ جوڈیشل کمیشن کے ہر رکن کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان اپنی عدالتوں کے سینئر ترین اور قابل ترین ججز ہیں جو سپریم کورٹ میں نہ لانے کے باعث ریٹائر کر دیئے جائیں گے۔
جسٹس عیسی نے گلہ کیا کہ چیف جسٹس جوڈیشل کمیشن کے چند دوسرے ارکان سے غیر رسمی ملاقاتیں کرتے رہے ہیں مگر میرے سینئر ترین جج ہونے کے باوجود آپ مجھ سے ملاقات نہیں کر پائے۔
جسٹس عیسی نے یہ بھی کہا کہ چیف جسٹس نے اپنے ہاتھ سے ایک فائل میں یہ تحریر کیا تھا کہ ججوں کی قابلیت اور تقرری کا معیار ابھی طے ہونا باقی ہے۔سینئر ترین ججوں کو نظرانداز کر کے جونیئر ترین ججوں کی نامزدگیوں کا آخر کیا جواز ہے؟
چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ احمد علی شیخ کو ایک اذیت ناک صورت حال سے گزرنا پڑا،میں خود بھی ایسی ہی اذیت ناک صورت حال سے دوچار رہا ہوں ،میں نہیں چاہتا کہ کوئی اور جج ایسی صورت حال سے گزرے۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے جسٹس عیسی کی گفتگو میں مداخلت کرتے ہوئے انہیں بحث سمیٹنے کا کہا اور یہ بھی بولے کہ جسٹس سردار طارق صاحب بھی کچھ کہنا چاہتے ہیں ،پھر یہ کہا کہ جسٹس عیسی صاحب اگر آپ یہ وعدہ کریں کہ اسلام آباد آنے کے بعد آپ میرے ساتھ ایسے ہی انداز میں بات کریں گے جیسے آپ اس وقت(وڈیو لنک) پر بات کر رہے ہیں تو پھر آپ دیکھیں گے کہ ہماری آپس میں کتنی بحث ہو گی۔
جسٹس قاضی فائز عیسی نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے یہ مطالبہ کیا کہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان آج اس بات پر ووٹنگ کرے کہ ججوں کی تعیناتیوں کیلئے کمیشن میں نام پیش کرنے کا اختیار صرف چیف جسٹس کا نہیں بلکہ کمیشن کے ہر رکن کا ہو گا۔
مزید یہ کہ کمیشن ایک فوجی انداز میں چیف جسٹس کے پیش کردہ صرف پانچ ناموں پر نہیں بلکہ آٹھ نو یا انیس بیس ناموں پر غور کیوں نہیں کر سکتا؟
جسٹس عیسی نے یہ بھی کہا کہ جوڈیشل کمیشن آج کی کارروائی کو اپنے فیصلے قرار دے کیونکہ آج کمیشن نے فیصلے کئے ہیں اور اجلاس کو موخر نہیں کیا۔ہمیں آج کی کارروائی کا کچھُ مثبت نتیجہ نکالنا چاہئے۔ جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ نے کر لیا ہے مثبت کام جتنا آپ سے ہو سکتا تھا آج ، اب بس تھینک یو سر Just rise now(اجلاس برخواست کیا جاتا ہے )اور یہ کہہ کہ بظاہر چیف جسٹس اجلاس چھوڑ کر چلے گئے۔
اس دوران جسٹس سردار طارق مسعود کی آواز آتی ہےJust a minute sir اور ساتھ ہی بولتے ہیں کہ”اجلاس کےُمنٹس میں کیا آئے گا یار” سر نہ
منٹس میں کچھ آئے گا کس نےُمخالفت اور کس نے نہیں۔
اسی دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے اٹھتے ہی جسٹس قاضی فائز عیسی کی واضح آواز گونجتی ہے کہ اب ہم سب کو نامزدگیوں پر ووٹ کرنا چاہئے۔پھر ساتھ ہی کہتے ہیں کہ کیا مطلب یہ اٹھ کر چلے گئے، کسی نے ووٹ ہی نہیں کیا۔ جسٹس سردار طارق مسعود حیرانی سے بولتے سنائی دیتے ہیں کہ انہوں نے (چیف جسٹس ) نے اجلاس موخر کر دیا ہے سر اور چیف جسٹس کے جاتے جاتے استفسار کیا کہ پھر آپ نے کیوں اتنا کچھ پوچھا مجھ سے،کیوں پوچھا۔
جسٹس قاضی فائز کی آواز سنائی دی کہ یہ کیسے میٹنگ ختم ہوتی ہے کہ چیئرمین اٹھ کر چلے جائیں۔

