حکومت کا پی ٹی آئی کے خلاف ڈیکلریشن سپریم کورٹ بھجوانے کا فیصلہ
پاکستان کی وفاقی کابینہ نے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں تحریک انصاف کی قیادت کے خلاف پولیٹیکل آرڈر 2002 کے تحت کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔جلد ڈیکلریشن تیار کرکے سپریم کورٹ بھیجا جائے گا۔
جمعرات کو وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس کےفیصلے کی روشنی میں آئندہ لائحہ عمل پر مشاورت کی گئی۔
اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ میں وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے بتایا کہ کابینہ نے ممنوعہ فنڈنگ کے معاملے پر پی ٹی آئی قیادت کے خلاف پولیٹیکل پارٹی آرڈر 2002 کے تحت کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔
مریم اورنگزیب نے بتایا کہ پی ٹی آئی قیادت کےخلاف پولیٹیکل پارٹی آرڈر 2002 کے آرٹیکل 2، 6 ،15 اور17 کے تحت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے، تحریک انصاف غیر ملکی امداد لینے والی جماعت قرار پائی ہے، جلد ڈیکلریشن تیار کرکے سپریم کورٹ بھیجا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ وزارت قانون کو سپریم کورٹ بھجوانے والے ڈیکلریشن کی تیاری لے لئے تین دن دیئے گئے ہیں۔وہ کابینہ کے اگلے اجلاس میں پیش کیا جائے اور پھر سپریم کورٹ بھجوایا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ آٹھ سال تاخیر سے آیا۔فیصلے میں تحریک انصاف غیرملکی امداد لینے والی جماعت قرار پائی ہے۔عمران خان کو سب معلوم تھا۔
انہوں نے کہا کہ سولہ ایسے اکاؤنٹس ہیں جو پی ٹی آئی نے ظاہر نہیں کئے۔وہ اکاؤنٹس عمران خان اور سینئر قیادت کے نام پر کھلے۔فارن فنڈنگ کیس میں آٹھ سال کے دوران ۵۱ مرتبہ التوا مانگا گیا اور نو وکیل تبدیل کہے گئے۔جعلی بیان حلفی جمع کرائے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ فارن فنڈنگ کیس فنڈنگ کیس سے حکومت کا کوئی تعلق نہیں بلکہ اکبر ایس بابر نے درخواست دائر کی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے این ڈی ایم اے کو ضلعی سطح پر سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگانے کی ہدایت کر دی ہے۔سروے مکمل ہونے پر متاثرین کو فوری ادائیگی کی جائے گی۔
مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے سیلاب میں جاں بحق افراد کو دس لاکھ جبکہ کچے اور پکے گھروں کا معاوضہ پانچ لاکھ دینے کی ہدایت کی ہے۔وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی زیرنگرانی معاوضے کی ادائیگی کے لئے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق اجلاس میں وفاقی کابینہ نےعمران خان اور دیگر قیادت کا نام ای سی ایل پر ڈالنےکی منظوری نہیں دی، پی ٹی آئی قیادت کا نام ای سی ایل پر ڈالنے کا معاملہ کابینہ کے ایجنڈے میں ہی نہیں تھا۔

